اسلام آباد(محمداکرم عابد)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نیشنل فوڈ سیکورٹی کے اجلاس میںمتعلقہ وفاقی وزیررانا تنویرحسین اور کمیٹی ارکان نے قومی زرعی اداروں کی کارکردگی پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے تو ادارے کام ہی نہیں کرتے اگرکچھ کرلیں تو عام کسانوں کاشتکاروں کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ،سیڈزانسپکٹرزغیرمعیاری بیجوں پر سمجھوتہ کرلیتے ہیں ،نگرانی کاسخت میکانزم ناگزیر ہے اداروں کے سیڈز سے بہتر تو ہمیں زمینداروں سے مل جاتا ہے ،جبکہ کمیٹی ارکان نے اجلاس کے دوران چینی کے کارخانوں کی لوٹ مار کے حوالے سے شکایات کے انبار لگادیئے آئندہ اجلاس میں ملک بھر کے کین کمشنرز کو طلب کرلیا گیا ہے بروقت کین ایڈوائزری کمیٹی کا اجلا س نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وزرات صنعت اور وزارت تجارت کے سیکرٹریز کو طلب کرلیا گیا ہے ۔قراردیا گیا ہے کہ کھیتوں میں کسانوں کا گنا سوکھنے کے لئے چھوڑدیا گیا ہے تاکہ وزن کم ہو اور وہ اونے پونے داموں پر فروخت کرنے پر مجبور ہوں چینی کارخانوں کی سہولت کاری کے پالیساں ہیں گنے کے کاشتکاروں سے متعلق کوئی پالیسی نہیں گٹھ جوڑ ہے 90ملین ٹن سے زیادہ گنے کی پیداور کا اندازہ ہے اور اب تک صرف 10ملین کی کرشنگ ہوسکی ہے۔کمیٹی کا ہنگامہ خیز اجلاس چیئرمین سیدحسین طارق کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے ملک بھر میں گنے کے کاشتکاروں سے چینی کارخانوں کی لوٹ مار کا ازخود نوٹس لیا ہے ۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے سیکرٹری فوڈ سیکورٹی سے ایک ماہ میںکالاشاہ کاکو میں چاول کی ایکسپورٹ کے ماڈل مرکز اورچاول کی تجارت کے آزادنہ معاہدے میں پیش رفت کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ بھارتی چاول پر پابندیاں ہٹنے پر پاکستانی چاول کی پچاس فی صد برآمد متاثر ہوئی ہے ۔ بھارتی چاول تین سوڈالرکم میں پیش کیا جارہا ہے ۔کمیٹی نے ایف ٹی اے میں تاخیر پر اداروں کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیتے ہوئے کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔زرعی تحقیقی اداروں کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی رانا تنویر نے کہا کہ مجال ہے کہ ان کی ریسرچ سے کسانوں کاشتکاروں کی استعدادکار میں اضافہ ہوا ہو، پہلے تو ریسرچ کے ادارے کام ہی نہیں کرتے اگر کوئی کام کربھی لیں تو کھتیوں کھلیانوں کا کوئی فائدہ نہیں پیدارو کم ہوتی جارہی ہیں۔چیئرمین کمیٹی سیدطارق حسین نے کہا کہ ریسرچ کے اداروں کی اوپن ڈور پالیسی ہونی چاہیے کسانوں کے لئے پی اے آر سی این آر اے سی سمیت ملک بھر زرعی مراکزکے دروازے کھول دیں ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجٹیل انفارمیشن سے بھی مستفیدکندگان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایک ہزار پیشہ ور زرعی ماہرین کی نچلی سطح پر تربیت کا منصوبہ ہے کچھ تو بہتری ہو ،اس دوران وفاقی وزیرنے دودھ کی پیدوار سے متعلق گفتگوکرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سنا ہے پی اے آرسی میں دودھ کی اپنی پیداور ہے چیئرمین پی اے آر سی نے مجھے بھی مفت پیش کش کی تھی مگر میں نے انکارکردیا تھا اور کہا کہ قیمتاً بھی نہیں لوں کیونکہ پھر بھی الزام لگے گا کہ وزیرکے گھر مفت میں سرکاری دودھ جاتا ہے ۔ انھوں نے مزید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا سیڈزانسپکٹرز مقرر کئے گئے یہ تو غیر،معیاری بیج پر سمجھوتہ کرلیتے ہیں ۔صوبائی حکومتیں نگرانی کا میکانزم وضع کریں سندھ میں 93سیڈز انسپکٹرزمقررکرنے کی منظوری دے دی گئی ہے ۔ وزرا ءاور اعلی افسران کو اچانک سیڈز دفاتر پر چھاپے مارنے چاہیں ،پنجاب میں زیادہ شکایات ہیں ۔جبکہ 134انسپکٹرزتعینات ہیں ۔گنے کے کاشتکاروں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگہی دیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کسانوں کو ترغیب دلانے کے لئے پہلے471فی من کی پرکش قیمت کا اعلان کردیا گیا جب کٹوتی ہوگئی تو اٹھانے میں نہ صرف سستی برتی جارہی ہے بلکہ ریٹ بھی چارسو روپے ہے۔کسانوں کی سہولت کاری کا کوئی سرکاری فریم ورک نہیں ہے آسان شرائط پر قرضے سبسیڈیز بھی ملز مالکان کو ملتی ہیں ارکان نے مزید کہا کہ کاشتکارکو عام بیلنز پر خام چینی کی تیاری کی اجازت اور ملز جیسی سہولیات دی جائیں اجارہ داری ٹوٹے گی قرضے گنے کے کسانوں کو دیں ورنہ ملز دوسوروپے فم من تک ریٹ مقرر کرنے کی نوبت آسکتی ہے ۔ جیسے گندم کے معاملات پر آئی ایم ایف سے بات کی گئی گنے کے کاشتکاروں سے متعلق بات کیوں نہیں کرتے سارابوجھ بس کسان اٹھارہے ہیں ،رانا حیات نے کہا ساری قومی اسمبلی کو تشویش تھی ۔ چینی مافیاز کا راج ہے،کین کمشنرزکی کیا کارکردگی ہے ،گنا کھتیوں اور ٹرالیوں میں سوکھ رہا ہے وقت گزرنے کا ملز انتظار کررہی ہیں تاکہ اپنے من پسند ریٹ پر خریداری کی جاسکے ۔ اجلاس میں اس حوالے سے صوبائی سیکرٹریز مطمئن نہ کرسکے ۔سیکرٹری فوڈ سیکورٹی نے بتایاکہ آئندہ ہفتے شوگر ایڈوائزری بورڈکا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے ۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارتی کمیٹی کے ارکان اور کین کمشنرز کو طلب کرلیا ہے ۔