سپریم کورٹ نے مخالفین کے گھر جانور جلانے کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کردی ہے دوران سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد گھیبہ نے ریمارکس میں کہا ہےکہ اگرمقدمات کے فیصلے قرآن پر ہوتے پھر تو جیلیں خالی ہو جاتیں، قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں، پولیس کو اپنے شواہد اکٹھے کرنا ہوتے ہیں

چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس ملک شہزاد احمد گھیبہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیاتو جسٹس ملک شہزاد نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا واقعی گھر اور جانور جلائے گئے ؟

پولیس اہلکا ر نے جواب دیا کہ جی واقعی گھر اور جانور جلائے گئے ہیں تاہم جائے واردات سے گولیوں کے خول برآمد نہیں ہوئے .

دوران سماعت مدعی مقدمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم ہم سے پلاٹ خریدنا چاہتا ہے، پلاٹ نہ بیچنے پر گھر اور جانور جلائے گئے .

جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا کہ پولیس کی اعلانیہ غیر اعلانیہ تفتیش کیا کہتی ہے؟
پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے جرگہ میں قرآن پر حلف دیا کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔

جس پر جسٹس ملک شہزاد کا کہنا تھاکہ اگر فیصلہ قرآن پر ہوتے پھر تو جیلیں خالی ہو جاتیں. قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں،مروجہ قانون کے مطابق پولیس کو اپنے شواہد اکٹھے کرنا ہوتے ہیں ۔جسٹس ملک شہزاد کے ان ریمارکس پر پولیس اہلکار کا کہناتھا کہ ملزمان کے خلاف پولیس کو کسی نے گواہی نہیں دی۔

جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیئے کہ اپنا گھر اور جانور خود کوئی نہیں جلاتا۔

یاد رہے کہ ملزم امجد علی نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی ۔ملزم کے خلاف سکرنڈ کے علاقے میں رواں سال مارچ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔