اسلام آباد (محمد عالی جاہ خان) نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، جس میں ملک بھر میں سائبر کرائم کے خلاف کی گئی کارروائیوں اور اہم کامیابیوں کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے نے سائبر کرائم، آن لائن فراڈ، ڈیٹا چوری اور دیگر سنگین نوعیت کے 2,196 کیسز کی چھان بین کی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم کے ذریعے ہونے والے مالیاتی جرائم میں 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو مؤثر تفتیش اور بروقت کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق سائبر فراڈ اور مالیاتی گھپلوں میں ملوث ملزمان سے 461 ملین روپے کی رقم برآمد کی گئی، جبکہ سال 2025 کے دوران 46,056 بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کو منجمد کیا گیا تاکہ غیر قانونی رقوم کی ترسیل کو روکا جا سکے۔
آن لائن بچوں کے استحصال کے خلاف مؤثر اقدامات کے تحت “آپریشن براؤن” کا آغاز کیا گیا، جس کے دوران 35 مقدمات درج کر کے ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 300 سے زائد افسران کو جدید سائبر تفتیشی تکنیکوں پر تربیت دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن اور مالیاتی فراڈ سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی مہمات کے ذریعے 20 لاکھ افراد کو معلومات فراہم کی گئیں۔
بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے این سی سی آئی اے نے رواں برس انٹرپول کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط کیا، جبکہ علاقائی سائبر کرائم انویسٹیگیٹرز فورم کی میزبانی بھی کی۔ مزید برآں، ادارے نے پانچ پڑوسی ممالک کے ساتھ سائبر کرائم کے خلاف تعاون اور روابط کو فروغ دیا۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی شراکت داری اور عوامی آگاہی کے ذریعے سائبر کرائم کے خلاف اپنی کوششیں مزید تیز کرے گا تاکہ ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنایا جا سکے


