ااسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں وزارت مواصلات کی جانب سے ٹھیکوں میں دہری ادائیگیوں،ٹرکوں اور گاڑیوں سے جرمانے کی مدمیں 16 ارب کی کم وصولیوں کے انکشافات ہوئے ہیں اس ضمن میں کمیٹی نے ایک ماہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے،
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرمین معین عامر پیرزادہ کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاؤس میں منعقدہوا جس میں وزارت مواصلات سے متعلق سال 2023-24 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔
ٹول آمدن کی مد میں 26 ارب سے زائد کے این ایچ اے کے واجبات کی ریکوری نہ ہونے سے متعلق آڈٹ اعتراض نے تصدیق کی کہ این ایچ اے نے ظاہر کیا ہے کہ یہ پیسے انہیں وصول ہونے ہیں، این ایچ اے نے کہا ہے ایف بی آر سے 1.1 بلین لینے ہیں وزراتی حکام کے مطابق ان کے کچھ پیسے ایف بی آر نے کاٹے تھے، ارکان نے اظہارتشویش کرتے ہوئے کہ ٹال ٹیکس دن بدن بڑھ رہا ہے، اگلی میٹنگ میں این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو طلب کرلیا گیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق ایف ڈبلیو او سے 10 ارب قابل وصول ہیں،کمیٹی نے پرائیویٹ کنٹریکٹرز سے ریکوری کے لئے 60 دن اور سرکاری کنٹریکٹرز سے ریکوری کے لئے جون تک کی مہلت دے دی، اجلاس کی کاروائی کے دوران بتایا گیا کہ اوور لوڈڈ ٹرکوں اور گاڑیوں پر عائد کردہ جرمانے سے کم وصولی پر 16 ارب سے زائد کے نقصان کا ہوا ہے آڈٹ پیرا بن گیا۔
سیکرٹری مواصلات اور آڈٹ حکام اعداد و شمار کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے۔سیکرٹری مواصلات نے آڈٹ کے اعدادو شمار پر اعتراض اٹھادیا۔
سیکرٹری مواصلات کا دعوی ہے کہ اعدادوشمارمفروضے پر بنائے گئے ہیں،ارکان نے کہا کہ آپ کے محکمے والوں نے یہ اعداد وشمار آڈٹ والوں کو دیئے ہیں۔، آڈیٹر جنرل نے بھی تصدیق کی کہ سیکرٹری نے ڈیٹا چیلنج کیا ہے، جب کہ یہ ان کی اپنی وزرات کا اپنا ڈیٹا ہے،ایک ارب کی کلیکشن ہوئی ہے، 16 ارب اور ہونی چاہئے، ان کا ڈیٹا موجود ہے کہ کتنے اوور لوڈڈ ٹرک گزرے ہیں، ان کا ڈیٹا ہے، ہمارا تو نہیں ہے۔
سیکرٹری مواصلات نے اصرار کیا کہ ہم ان کواعدادوشمار دوبارہ دکھا سکتے ہیں۔کمیٹی نے معاملے پر وزارت مواصلات اور آڈٹ حکام کو دوبارہ بیٹھنے کی ہدایت کردی،جگلوٹ سکردو روڈ منصوبے میں پلوں کی مد میں دہری ادائیگی سے متعلق آڈٹ اعتراض کے جائزہ میں آڈٹ نے بتایا کہ ایک کام 2016 میں ایوارڈڈ ہوا تھا پانچ پل بننے تھے،2017میں ایک اور کنٹریکٹ ای پی سی موڈ میں اسی کنٹریکٹر کو دیا گیا، اس کے سکوپ میں بھی یہ پانچ پل موجود تھے، ایک کام کے لئے دو مرتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں، پانچ پلوں کی پیمنٹ 2018 میں کی گئی۔
سیکرٹری موصلات کے مطابق2017 میں کام شروع ہوا تھا اور 2022 میں مکمل ہوا، یہ ای پی سی کا کنٹریکٹ تھا۔آڈٹ حکام کے مطابق2018میں پیمنٹ پانچ پلوں کی مد میں ہوئی، کمیٹی نے معاملے پر ایک مہینے میں وزارت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔


