اسلام آباد(محمداکرم عابد) سرکاری ملازمین سے اسنادکی تصدیق کے لئے بھاری معاوضوں وصولی دوطرفہ ادائیگیاں کرنے پر مجبور،اربوں روپے جمع ہونے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں،متعلقہ اداروں کا تعاون سے انکار،اسنادتصدیق کمائی کاذریعہ بن گئیں۔ مشکوک ڈگریوں کی تصدیق کی بجائے سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنے والی دوسروں کی کمائی کے لئے سہولت کار بن گئے،نَہ ہِینگ لَگے نَہ پِھٹکَری، رَنْگ چوکھا آئے کے مصداق بھاری کمائی کا آسان راستہ،ملازمین بے بس۔ایچ ای سی اور جامعات پر کام کا رش تاخیر سے ملازمین میں بے چینی پھیل گئی۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمینٹ سمیت وفاق میں مختلف ڈویژنوں اداروں میں ملازمین کی اسنادکی تصدیق کروائی جارہی ہیں تاہم تصدیقی مراحل کے اخراجات،سرکار نے برداشت کرنے کی بجائے یہ بوجھ ملازمین پر ڈال دیا ہے دوطرفہ معاوضوں کی ادائیگی کے ذریعے یہ کام انجام دیا جارہا ہے،متعلقہ ادارے سے یہ تمام ڈگریاں ایچ ای سی ارسال کی جاتی ہے اس مرحلہ میں میں بھی فیس کی ادائیگی بعدازاں متعلقہ یونیورسٹی کو بھی فیس کی ادائیگی،ایک ڈگری تصدیق کے لئے تقریباً بیس ہزار روپے کے اخراجات کی اطلاعات ہیں، متعلقہ ادارے فیس ادائیگی کی زمہ داری سے بری الذمہ۔بغیرکسی خاص تگ ودوکے ہائیرایجوکیشن اور یونیورسٹیزکوبھاری رقوم کی وصولی کے مواقع دستیاب ہوگئے ہیں۔بعض حلقوں کا کہنا ہے اس حوالے سے کسی ملک کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیئے تھا یا مشکوک ڈگریوں کی تصدیق کی مستقل نظام قائم کیا جائے یا پھر متعلقہ ادارے کو معاضوں کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔دوسری طرف ایچ ای سی میں اس کام کا رش لگ گیا ہے ایک ایک ماہ تصدیق کالیا جارہاہے جبکہ سینیٹ سمیت بعض دوسرے ادروں میں اس معاملہ کی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے اس طرح ملازمین پریشان الگ ہوگئے ہیں۔