اسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں راجن پور میں پچاس ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضے کا انکشاف، سال 2009 میں خریدی گئی زمین کا آج تک قبضہ نہیں مل سکا۔

کمیٹی کا اجلاس کنوینر شاہدہ اختر علی کی صدارت میں منعقد ہوا۔وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے حسابات سے متعلق سال 2010-11 اور 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام نے کہا کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ذیلی ادارے پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے راجن پور میں پچاس ایکڑ اراضی 2009 میں خریدی آج تک قبضہ نہیں مل سکا، 16 سال سے ادائیگی ہوئی ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے خود کو اس معاملے سے بری الزمہ قراردینے کی کوشش کرتے ہوئے ملبہ منسلک ادارے پرڈال دیا اور کہا کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈکی50 ایکڑ کی زمین ہے اور اس پر غیر قانونی قبضہ ہے، ڈیپارٹمنٹ پرسو کر رہا ہے ۔غیر قانونی قابضین کے پاس زمین کا قبضہ ہے،

کمیٹی ارکان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پیمنٹ پہلے کر لی اور قبضہ لیا نہیں۔حکام نے غیر تسلی بخش جواب دیتے ہوئے کہا کہ سستی زمین تھی، 50 ایکڑ ہم نے 8.4 ملین پر لی تھی قبضہ واگزارنہ کروانے پر چپ سادھ لی ۔ اس معاملے پر پنجاب حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر پاسکو کی256 ارب کی نادہندہ ہونے کا انکشا ف بھی ہوا ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے 256 ارب روپے قابل وصول ہیں۔سیکرٹری نے بتایا کہ وفاقی حکومت اپنے واجبات کے لئے پلان وضع کر رہی ہیں، اس سال یہ معاملہ حل ہو جائے گا، بلین صوبائی حکومتوں کے ذمہ ہیں، معاملے پر دو ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی گئی ہے ۔

وزارت صحت سے متعلق سال 2010-11 اور 2013-14 کے آڈٹ اعتراضات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں سپر فلو چل رہا ہے اس کے لئے کیا کیا جارہا ہے، پولی کلینک اور پمز سے بڑی شکایتیں آرہیں ہیں، ہر سال اس کی ویکسین بنتی ہے، اسلام آباد کی ایئر کوالٹی لاہور کے آگے پچھے چل رہی ہے، نئی ویکسین کا انتظار کر رہے ہیں،

حکام نے بتایا کہ متاثرین باہر جاتے ہوئے ماسک ضرور استعمال کریں۔ارکان نے کہا اتنی تاخیر سے ریسرچ آتی ہے کہ پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔