خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ کا سندھ میں شاندار استقبال کیا گیا۔ انہیں اجرک اوڑھائی گئی اور سندھی ٹوپی بطور تحفہ پہنائی گئی تو ہر طرف داد و تحسین کی آوازیں گونج اٹھیں۔ یہ پذیرائی اس لیے بھی خاص سمجھی گئی کہ پنجاب میں انہیں وہ عزت و توقیر حاصل نہ ہو سکی جو سندھ میں نصیب ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا سندھ نے محض اپنی مہمان نوازی کی روایت نبھائی، یا پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے مستقبل کی سیاست کے لیے کوئی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں جب بھی کوئی بڑا سوال جنم لیتا ہے تو وہ صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ریاست، جمہوریت اور اقتدار کے مستقبل سے جا جڑتا ہے۔ آج کل ایک ایسا ہی سوال فضا میں معلق ہے: کیا پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان اتحاد ممکن ہے؟ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے جواب میں سیاست کی کئی تہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی خود کو جمہوریت کی محافظ، پارلیمانی سیاست کی علمبردار اور مفاہمت کی علامت سمجھتی ہے۔ یہ جماعت اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، ہمیشہ “سسٹم کے اندر رہ کر” سیاست کرنے پر یقین رکھتی آئی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاست احتجاج، مزاحمت اور شخصیت پر مبنی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ عمران خان کی سیاست مفاہمت سے زیادہ مزاحمت اور طاقتور امپائر کے انگلی اٹھنے پر استوار رہی ہے۔ ایسے میں دونوں جماعتوں کا اکٹھا ہونا نظریاتی طور پر تو ممکن دکھائی دیتا ہے، مگر عملی طور پر یہ راستہ خاصا کٹھن نظر آتا ہے۔

اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے درمیان اختلافات محض سیاسی اختلاف نہ تھے، بلکہ سخت بیان بازی، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو “سسٹم کا حصہ” یا “نااہل حکمران” قرار دینے تک معاملات جا پہنچے تھے۔ ایسی تلخ تاریخ کے بعد اچانک سیاسی محبت کے گیت گانا عوام کے لیے بھی حیران کن ہے۔

تاہم پاکستانی سیاست کی ایک حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے “مجبوری کی سیاست”۔ یہاں ایسے کئی اتحاد بنے جو نہ نظریے کی بنیاد پر تھے، نہ دوستی پر، بلکہ محض اقتدار کے حساب کتاب اور عددی توازن کے تحت وجود میں آئے۔ اگر کسی مرحلے پر حکومت سازی یا کسی تیسری سیاسی قوت کو روکنے کے لیے اکٹھا ہونا ناگزیر ہو جائے تو پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے درمیان محدود یا مشروط تعاون ناممکن نہیں۔ ممکن ہے کہ مکمل اور طویل المدت اتحاد محض خواب ہی رہے، مگر پارلیمان کے اندر مخصوص معاملات پر ساتھ چلنا، آئینی سوالات پر مشترکہ مؤقف اپنانا، یا انتخابات کے بعد مجبوری کے تحت کوئی بندوبست یہ سب کچھ ہماری سیاسی تاریخ میں نیا نہیں۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف اکٹھے ہوں گے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاست نظریے کے بجائے مجبوری کے سہارے کب تک چلتی رہے گی؟ اگر یہی روش برقرار رہی تو اتحاد بھی ہوا کے رخ کے ساتھ بنتے اور ٹوٹتے رہیں گے۔

جہاں تک خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ کے سندھ میں استقبال کا تعلق ہے، تو یہ محض ایک پروٹوکول تقریب نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی سیاسی پیغام ہے۔ سندھ جیسے صوبے میں، جہاں پیپلز پارٹی کی مضبوط حکمرانی ہے، وہاں خیبر پختون خواہ کے وزیرِاعلیٰ کا پرتپاک استقبال اس امر کی علامت ہے کہ صوبوں کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود وفاقی سطح پر نرم لہجہ اور روابط فروغ پا رہے ہیں۔ اسے تصادم کے بجائے مفاہمت کی جانب ایک اشارہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ سندھ میں تحریکِ انصاف کا اثر و رسوخ محدود ہے، تاہم ماضی کا اے این پی کا ووٹر اب بڑی حد تک تحریکِ انصاف کا حامی بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ کراچی پہنچ کر پختون کارڈ کے ذریعے تحریکِ انصاف کی سیاست میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔

دوسری جانب سندھ حکومت یا صوبے کے سیاسی حلقوں کی جانب سے ایسا استقبال پیپلز پارٹی کے سیاسی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی خود کو اس قدر مضبوط سمجھتی ہے کہ کسی مخالف صوبے کے وزیرِاعلیٰ سے ملاقات یا استقبال کو خطرہ نہیں بلکہ سیاسی روایت کا حصہ گردانتی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ایسے استقبال اکثر صرف تصویروں تک محدود نہیں ہوتے؛ یہ پسِ پردہ بات چیت، مستقبل کی سیاسی ترکیبوں یا پارلیمانی تعاون کے اشارے بھی ہو سکتے ہیں—خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک سیاسی غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہو۔
کیا سیاست اب سخت بیان بازی سے ہٹ کر نرم لہجوں کی جانب بڑھ رہی ہے یا یہ سب محض وقتی سیاسی ضرورت کا عکس ہے؟ صوبائی سیاست بظاہر ایک دوسرے کو سننے کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

بہرحال، سیاسی رنگ چاہے جیسے بھی ہوں، سندھ حکومت کے صوبائی وزیر سعید غنی کی جانب سے خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ کا جس انداز سے استقبال کیا گیا، اس نے سندھ کی اس روایت کو نمایاں کیا کہ سندھی لوگ مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں۔