اسلام آباد(ای پی آئی ) سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے مقدمہ میں نامزد ملزم مدثر کی درخواست ضمانت منظور کرلی .
تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ جتنا سنگین الزام ہو اتنی سنجیدہ تحقیقات بھی ہونی چاہیے.
وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ملزم الزام سے مکمل انکار کررہا ہے جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ تحقیقات میں لڑکی کا ملزم کے گھر رہنا ثابت ہے.
جسٹس ملک شہزاد گھیبہ نے کہاکہ الزام مدعی نے ثابت کرنا ہوتا ہے ملزم نے نہیں .جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کر تماشہ کیوں بنائے گا
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ ایسے تمام واقعات تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے ،کیامیڈیکل رپورٹ بھی ملزم کے خلاف نہیں ؟
سرکاری وکیل نے کہاکہ میڈیکل دو ماہ کی تاخیر سے ہوا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہر مقدمہ ریپ کا نہیں ہوتا
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ لوگ بیٹیوں کی عزت کی وجہ سے خاموش ہو جاتے ہیں .
جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ خاتون نے خود ریپ تسلیم کیا اور کیا ثبوت ہوگا جسٹس ملک شہزاد کا کہنا تھاکہ صرف لڑکی کی گواہی پر تو ملزم کو سزا دینے کا نہیں کہہ سکتے .
جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا کبھی کسی کو زنا بالرضا پر بھی سزا ہوئی ہے ؟ کیا رضا مندی کے مجرم کو زبردستی کی دفعات پر سزا دی جاسکتی ہے ؟ جو جرم ہو گا اتنی ہے سزا دیں گے .جتنا جرم اتنی سزا جسٹس جمال مندوخیل
ملزم کے خلاف خاتون کے والد نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ برس ذیادتی کا مقدمہ درج کروایا تھا


