اسلام آباد (دامن مارگلہ محمداکرم عابدسے) حکومت کو جعلی قرار دینے والے اچکزئی کو وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہوگیا ہے جبکہ اپوزیشن لیڈرکو سرکاری اسکواڈ سرکاری بنگلہ بھی ملے گا.

موجودہ پارلیمانی نظام میں سابق وزیراعظم بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر پیش قدمی کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر مقرر کروالیا جبکہ پانچ نہیں چاربڑوں کی پارلیمینٹ میں اظہار پسنددیدگی کے ساتھ باز گشت سنائی دے رہی ہے.

دوسری طرف حکومت کو جعلی قرار دینے والے محمود خان اچکزئی کو وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہوگیا اور انھوں نے سرکاری مراعات قبول کرلی ہیں انھیں وزراتی بستی میں عالیشان سرکاری بنگلہ کے علاوہ اسکواڈ ملے گا اعلی ترین پروٹوکول کے اہل قراردیتے ہوئے ایوان صدر وزیراعظم آفس تمام اداروں کا آگاہ کردیا گیا جب کہ اپوزیشن لیڈرکی تقرری میں قائد مسلم لیگ(ن) نوازشریف کے کردارکا تذکرہ بھی پارلیمانی حلقوں میں کیا جارہا ہے .

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر کا تقرر نامہ بھی تیار کرلیا گیا ہے ۔چیئرمین سینیٹ کی ایوان صدر سے پارلیمان آمد پر متحدہ اپوزیشن کے حوالے تقررنامہ کردیا جائے گا ۔

تجزیہ نگاروں نے محمودخان اچکزئی کی حیثیت سے تقرری پر ملے جلے تبصرے کرتے ہوئے ان کے دیرینہ دوست نوازشریف سے تعلق داری بیان کرنا شروع کردی ہے ۔ محمودخان اچکزئی سسٹم میں رہتے ہوئے آگے بڑھنے کا فن جانتے ہیں بلکہ کہنہ مشق کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ان کے بھائی ماضی میں بلوچستان کے گورنر بھی بنائے گئے۔ ادھر نئے اپوزیشن لیڈر نے تمام سرکاری مراعات قبول کر لی،پروٹوکول والے گاڑیاں لے کر پارلیمان پہنچ گئے چیمبر کی تزئین و آرائش پہلے سے ہوگئی تھی،وزراء کالونی میں اپوزیشن لیڈر کے لئے مختص بنگلہ بھی ملے گا.

محمود خان اس وقت اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں رہائش پذیر ہیں، صدر پاکستان، وزیراعظم سمیت تمام اداروں کو اپوزیشن لیڈر کی تقرری بارے آگاہ کر دیا گیا،محمود خان اچکزئی پیر کو قومی اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف پہلا خطاب کریں گے.

ناقدین حیران نہ ہوں نئے اپوزیشن لیڈر نے تمام مراعات قبول کر لی،محمود خان اچکزئی کو مکمل اسکواڈ ملے گا، وزراء کالونی میں اپوزیشن لیڈر کے لئے مختص بنگلہ بھی ملے گا، محمود خان اس وقت اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں رہائش پذیر ہیں۔ متبادل وزیراعظم سے متعلق صدر پاکستان، وزیراعظم سمیت تمام اداروں کو آگاہ کر دیا گیا، محمود خان اچکزئی پیر کو قومی اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف خطاب میں نئے میثاق جمہوریت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے ۔خطے کی صورتحال سیاسی ثالثی سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے.