اسلام آباد (محمد اکرم عابد) پارلیمینٹ ہاؤس میں ایک طویل عرصہ کے بعد متحدہ اپوزیشن کا (کل) پیر کو اجلاس ہوگا۔

نئے اپوزیشن لیڈر کے آنے پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے جب کہ متحدہ اپوزیشن کے ترجمان نے دوٹوک یہ بھی واضح کردیا ہے کہ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو کوئی کردار ہے نہ اپوزیشن قائد کی طرف سے نوازشریف اس معاملے پر کوئی رابطہ کیا گیا تھا اپوزیشن لیڈر کی میرٹ پر تقرری ہوئی ہے کیونکہ انھیں اپوزیشن ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے قانونی موشگافیوں کی وجہ سے یہ معاملات التوا کا شکار ہوئے۔

خیال رہے کہ اس معاملے میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے عدالت میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو فریق بنارکھا تھا۔ کیس سے دستبرداری پر نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی راہ ہموار ہوئی اس معاملے پر پی ٹی آئی قیادت کو چارخطوط بھی لکھے گئے تھے کہ عدالتی دستاویزات جمع کروائیں قانونی تقاضا پورا ہوا اور تقررنامہ جاری ہوگیا۔

عمران خان کے علاوہ نوازشریف سمیت کسی سیاستدان کا اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ریکارڈ پر تمام دستاویزات موجود ہیں۔بحثیت اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی کی صدارت میں پیر کو متحدہ اپوزیشن کا پہلا اجلاس ہوگا،اپوزیشن میں اتحاد کی سازگار فضا باہمی تعاون کے لئے محمودخان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہواہے۔

مشاورتی اجلاس میں حکومت اپوزیشن کے ممکنہ مذاکرات میں اپوزیشن کے مطالبات پر بات ہوگی۔ذرائع کے مطابق چھ نکات طے کر لئے گئے ہیں نئے اپوزیشن لیڈر اپنا پالیسی بیان دیں گے۔

کئی ماہ کے بعد متحدہ اپوزیشن کی بیٹھک ہوگی۔ادھر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں نوازشریف کی مداخلت کی تردید کی ہے۔ محمودخان اچکزئی نے اس معاملے پر نوازشریف کو فون نہیں کیا تھا،تقرری میرٹ پر ہوئی تاخیر کی وجہ قانونی دستاویزات کا حصول اور جمع کروانا ہے۔