اسلام آباد(محمداکرم عابد)امیرجمعیت علمااسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے شادی کی عمر کے تعین کے متنازعہ قانون کو توڑنے ممکنہ گرفتاری پیش کرنے کا اعلان کردیا.
گھریلوتشددسمیت دیگرمتنازعہ قانون سازی کو شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے احتجاج کے لئے ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کو تیار ہوں، کسی بھی عمرکے بالغ بچوں کے نکاح خود پڑھانے یا اس قسم کی اجتماعی شادیوں کی تقریب میں خودشریک ہونے اور علماکرام سے بھی اس بارے میں بھی اپیل کردی کہ نکاح کے معاملات میں کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کرے، میں خود جیل جانے کو تیار ہوں،غزہ امن معاہدہ انتہائی خطرناک ہے ،اسرائیل خدانخواستہ پاکستان کی دہلیز پر آبیٹھے گا اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے جلد سڑکوں پر آنے کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔
پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کے دوران مولانا فضل الرحمان نے شہبازحکومت پر برستے ہوئے کہا کہ ہم کہتے تھے کہ عمران خان بیرونی ایجنڈے پر کارفرما تھے یہودیوں کے ایجنڈاکے لئے شہبازتو عمران سے دوقدم آگے نکل گیا ہے ۔مشترکہ اجلاس سے قانون سازی ہوئی جو اسلام کے خلاف ہوئی ،ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ بل بھیجنے کا مطالبہ کیا ،ہمارا مطالبہ نہ سنا گیا ،ایسے قوانین پر لکھا ہوتاہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی خواہش پر ترامیم کی جارہی ہیں ،عائلی قوانین غیر اسلامی منظور کئے گئے ۔
انہوں نے کہاکہ میں اعلان کرتا ہوں ان غیر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی میں کراوں گا ،میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراوں گا دیکھو گا تم کیا کرتے ہو ،آپ کے غیر اسلامی قوانین کو پاوں تلے روندوں گا۔
فلسطین کے حوالے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خود وزیر خارجہ کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ کے ابتدائی نکات وہ نہیں جو طے ہوئے تھے ،کیا اب وہ اعتراضات دور ہوگئے ،کیا بغیر پڑھے دستخط کردئیے گئے ،کیا ٹرمپ نے ان کی موجودگی میں نہیں کہا کہ حماس غیر مسلح نہ ہوئی تو تباہی برباد کردوں گا۔ اسرائیل پاکستان کی سرحدات کی طرف پیشرفت کررہا ہے ،اسرائیل کے پہلے صدر نے پاکستان کے خاتمے کی بات بطور منشور پیش کی ،حماس کو کچلنے کے بعد ایران اور پھر ایران میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تیاری کررہا ہے ،اگر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں بیٹھنے کی دلیل پر اس کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوئے پارلیمان سے کیوں نہیں پوچھا گیا آج یہ ایوان موجودہ شرائط پر پیس بورڈ کو مسترد کردے ،اگر میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف نکل سکتا ہوں تو ان کے خلاف بھی نکل سکتاہوں۔
مولانا کا کہنا تھاکہ پچیس کروڑ انسانوں کی طرح ہانکنا قبول نہیں کریں گے ،اگر یہ غلامی نواز شریف اور شہباز شریف قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک ہم غلامی قبول نہیں کریں گے،امت مسلمہ ٹرمپ کے دباو میں اسرائیل کو سہولت فراہم کررہے ہیں ،نام تو اس کا امن کیلئے استعمال ہورہا ہے ،مگر جن دھمکیوں کیساتھ آغاز کیا جارہا ہے اس سے عزائم واضح ہورہے ہیں ،حماس کو غیر مسلح کرنا یہ فلسطینیوں کی قوت مزاحمت ختم کرنا ہے ،فلسطینی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اسرائیلی ریاست کل بھی ناجائز تھی آج بھی،اسلامی دنیا نے جو کردار ادا کیا ہے وہ نام امن کا نام لے رہی ہے مگر اسے ٹرمپ کے ایجنڈے پر آگے بڑھ رہی ہے ، اسرائیل کی توسیع کا پہلا نشانہ عرب ممالک بنیں گے ،اسلامی دنیا اپنے پاوں پر کیوں کلہاڑا مار رہی ہے اور اپنے ہاتھ سے خنجر رکھ رہی ہے،اگر امریکہ کل ایران پر حملہ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی اسرائیل۔لبنان، شام میں داخل ہوچکا ہے ،اگر ایسی صورتحال بنتی ہے تو اسرائیل پاکستان کی سرحد پر ہوگا.
مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کیوں یہ فقط برستی بارش دیکھ رہی ہے کہ اسے طوفان نظر نہیں آتا ،بیرونی ایجنڈا سے متعلق جو شکایات عمران خان سے تھیں موجودہ حکومت دو چار ہاتھ آگے چلی گئی ہے ،یہ حکومتوں کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا ہے ،جو قانون سازیاں ہورہی ہیں وہ شریعت کے خلاف ہیں یعنی آئیں کے خلاف ہیں ،آئین کے خلاف کوئی قانون تسلیم نہیں کرتے، ایوب دور میں بھی عائلی قوانین دلائل سے رد کیا گیا ،اس وقت آمرانہ قوت سے اسے منظور کرایا گیا یہ اسی طرح ہی پریکٹس کررہے ہیں،جنرل مشرف نے حقوق خواتین کے نام پر آئین میں ترمیم کی جس میں زنا کے راستے کھولے گئے ۔زانی کو سزا دینے کیلئے قانونی پروسیجر کو مشکل بنایا گیا اور جائز نکاح کیلئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ۔کیا یہ اسلامی ریاست کا تصور یہ ہے؟ انہوں نے اس چہرے کو مسخ کردیا ہے ۔
مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں، آئیں و قانون کے دائرے میں جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ۔اب عالمی برادری اور مغربی دنیا کو جمہوریت سے دلچسپی نہیں رہی ۔وہ اب طاقت پر اعتماد کرتے ہیں وہ اب عسکری قوت سے مقاصد حاصل کررہے ہیں ۔جو افغانستان، فلسطین، وینزویلا میں ہوا یہ جمہوریہ سے دستبرداری اور سرمایہ دارانہ نظام کی مسلط کرنے کی جنگ ہے تیراہ میں آپریشن شروع ہے، عام لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا جارہا ہے وہاں کے پہاڑ ، میدان، صحرا سب برف میں دبے ہیں ،حیرت ہے کہ ریاست ہے، وسائل ہیں، عوام کو مشکلات میں پھنسایا جارہا ہے اس وقت پورا قبائل بدامنی کا شکار ہے جبکہ تیراہ میں عوام زیادہ مشکلات سے دو چار ہیں.
بعدازاں پارلیمنٹ ہاوس میں مولانا فضل الرحمان نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین پی ٹی آئی کی حکومت سے متنفر تھا کیونکہ سی پیک کو روکا گیا تھا ۔پی ڈی ایم کی حکومت بنی تو اس بعد سے آج تک ایک انچ کام آگے نہیں بڑھا ۔چین اس وقت پورے ملک سے مایوس ہیں،70 سال کی دوستی کو کس کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔حکمرانوں کو خارجہ پالیسی کا الف ب کا علم نہیں، ہر طرف جنگ اور جنگ کیا یہ ملکی مفاد میں ہے ۔ہمارے پاس تجارتی راستے بند ہوگئے، انڈیا کیساتھ پہلے ہی نہیں تھا افغانستان کیساتھ بھی بند کردیا گیا، چین کا راستہ ہماری نااہلی کی نذر ہوگیاایران کا راستہ بہت زیادہ دور پڑتا ہے تو ہم کیا کریں گے ؟مجھے علم ہے کہ وہ ایٹمی دھماکوں کے وقت وہ کتنی ہمت میں تھے،ن لیگ والے تو اس وقت استعفے دے رہے تھے ہم نے روکا اور کہا ڈٹ جاو، ہم ساتھ کھڑے ہیں،ہم نے کہا تھا کہ ڈٹ جاو، ہماری وجہ سے یہ ہماری وجہ سے ایٹمی دھماکے کرسکے ۔
مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مداح سرا خواجہ سرا بلا کر یہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی طبقہ ان کیساتھ ہے ۔کبھی ہمیں بلاکر اپنا ایجنڈا پیش کریں پھر ہم آپ کو بتائیں گے ،ہم ملک کے خیر خواہ ہیں اسی وجہ سے سب کچھ کررہے ہیں ،ہم ملکی دفاع کے وقت دفاعی قوت میں ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں،ہمیں پوری توانائی کے ساتھ اس کے راستے میں بریک لگانا ہوگی ،ہم قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا احترام کرتے ہیں مگر غیر شرعی قانون کو نہیں مانیں گے ،اگر کوئی مولوی نکاح نہیں پڑھاتا تو میں حاضر ہوں، ہر قربانی دونگا،تیراہ میں آپریشن شروع ہے، عام لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا جارہا ہے وہاں کے پہاڑ ، میدان، صحرا سب برف میں دبے ہیں ۔حیرت ہے کہ ریاست ہے، وسائل ہیں، عوام کو مشکلات میں پھنسایا جارہا ہے ۔اس وقت پورا قبائل بدامنی کا شکار ہے جبکہ تیراہ میں عوام زیادہ مشکلات سے دو چار ہیں۔


