اسلام آباد(محمداکرم عابد)تمام 9بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی نجکاری کا پلان آف ایکشن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری میں پیش کردیا گیا۔
کمیٹی چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار نے اس بارے میں ملازمین کی یونینز کو اعتمادمیں لینے کی ہدایت کردی کیونکہ ہڑتال اور بیک وقت بجلی بندش کا خطرہ ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ تین مراحل میں کمپنیوں کو فروخت کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے معاہدے ،واجبات ، اثاثوں روٹس سمیت تمام معاملات میں پی آئی اے کے نجی مالکان کے اختیارات سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی صدارت میں منعقد ہوا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سکھر اور حیدرآبادکی بجلی کمپنیوں کو بیچنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے ،بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی لانگ ٹرم بنیادپر نجکاری ہوگی اثاثوں واجبات ،مالی اخراجات ،بجلی کی تنصیبات کالونیوں سمیت تمام معاملات کے حوالے سے سروے رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جلد حتمی رپورٹ کی حکومت کی جانب سے منظوری دے جائے گی۔
اس وقت ملک بھر میں کل ساڑھے تین کروڑ بجلی کے کنکشنز ہیں افرادی قوت کے بارے میں کمیٹی کو ابتدائی طورپر آگاہی دی گئی ہے ۔کمیٹی نے سولر انرجی پر منتقل میٹرز کا ڈیٹا مانگ لیا ہے ۔
کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ اندرون و بیرون ملک پی آئی اے کے تمام اثاثوں سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی جائے ۔ یونینزکے تحفظات کا دور کیا جائے انھیں سناجائے ،سیاست سے بالاتر ہوکر ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں ان معاملات کو دیکھا جائے ۔اجلاس میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ملازمین کی ہڑتال کی دھمکیوں مظاہروں کے معاملات پر بھی بات ہوئی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ ہم نجکاری کے معاملات پر مہرثبت نہیں ہم تو آگاہی لے رہے ہیں ضروری ہے ملازمین کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو ضروری نہیں ہے کہ کمیٹی نجکاری کے ایجنڈے کے حوالے سے حکومت کے ساتھ کھڑی ہو۔
کمیٹی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ آئیسکو، حیسکو،سیپکو،میپکو سمیت تمام کمپنیوں کے علاقائی ومرکزی یوینزکا اعتماد میں لیا جائے۔
کمیٹی میں پلان آف ایکشن پیش کیا گیا کہ آئسیکو،جیپکو،فیسکو(فرسٹ فیز) لیسکو، میپکو،حیزکو(سیکنڈفیز)سیپکو،حیسکو،پیسکو تیسرے مرحلے میں نیلام کردی جائے گی اور مالکان کے پاس مکمل انتظامی اختیار ہوگا۔ایکوٹی نہیں لانگ ٹرم لیز کی بنیاد پر یہ کمپنیاں فروخت کی جارہی ہیں ۔
تمام کمپنیوں کا بیک وقت نجکاری عمل شروع کردیا گیا ہے ،فنانشل ایڈوائزر آچکے ہیں ۔


