اسلام آباد(محمداکرم عابد)وفاق ہائے صنعت وتجارت پاکستان نے خطے میں پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے وزیراعظم کے بجلی نرخ میں رعایت سے پیدواری لاگت میں کمی کا عام آدمی کو فائدہ ملنا چاہیئے انھوں نے سپرٹیکس کی مدمیں 380ارب روپے وصولی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پر بھی تحفظات کا اظہار کردیا.
خیال رہے کہ یہ سپرٹیکس مالیاتی بل2025.26 کے تحت لاگوکیا گیا تھا مگر وصولی میں حکومت کا مشکلات کا سامنا ہے وفاق ہائے صنعت وتجارت نے شوگر ملز میں مال کی تیاری کے اعداود شمارسے متعلق ایف بی آر کی نگران ٹیموں کے حوالے سے بھی اعتراضات اٹھا دیئے ہیں.
صدر ایوان نے واضح کیا ہے کہ ایف بی آر ڈرانے دھمکانے(ہراسمینٹ ،انفورسمنٹ) کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے ضلعی سطح پر ڈی پی اوڈپٹی کمشنرکی طرز پر ضلع اکنامک کمشنر مقرر کیا جائے، پاکستان برآمدات کاحب بن جائے گا ۔صوبہ خیبرپختونخواکو آٹے گندم کی ترسیل پر پابندی پاک افغان تجارت سے متعلق فیصلوں کے بارے میں تاجر برادری کو اعتمادمیں لیا جائے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرعاطف اکرام شیخ نے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی طرف سے وزیر اعظم کے اکنامک پیکج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلان "معرکہ معیشت” میں ایک اہم موڑ ہے۔ اس اعلان نے پاکستان کو ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔
انھوں نے دعوی کیا کہ اکنامک پیکج نے پاکستان کو ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کی راہ پر گامزن کردیا۔ ڈسٹرکٹ اکنامی کا فروغ ناگزیر ہے۔ ہمارا عزم میڈ ان پاکستان کو دنیا بھر میں مثالی برانڈ اور ملک کو ایکسپورٹ لیڈ پاور ہاﺅس بنانا ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ ہمارا فلسفہ مخالفت نہیں بلکہ معاونت ہے۔ ہم نے ہمیشہ بامعنی شراکت داری کو ترجیح دی ہے۔ ہم آئی ایم ایف کی پابندیوں اور حکومتی مجبوری سے بخوبی واقف ہیں۔ہم بجلی قیمتوں میں4.04روپے فی یونٹ کمی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آنے والے دونوں میں مزید کمی ممکن ہو سکے گی۔ اسی طرح بلیو پاسپورٹ کی سہولت کا اعلان بھی ایک حوصلہ افزا بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں مزید کمی وقت کی ضرورت ہے اور اس کو بتدریج 7فیصد تک لایا جا سکتا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور غربت میں کمی واقع ہو سکے۔ وہیلنگ کا مسئلہ کافی عرسہ سے التوائ کا شکار تھا ایف پی سی سی آئی اس اہم معاملے پر حکومت کیساتھ مسلسل رابطے میں رہی۔ ایک فعال وہیلنگ میکانزم نہ صرف سستی بجلی کی ترسیل کو آسان بنائے گا بلکہ ہمارے ایکسپورٹرز کیلئے عالمی تقاضوں کو پورا کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔ اس سے ہماری صنعتوں کو سستے توانائی کے ذرائع تک رسائی ملے گی جو عالمی مارکیٹ کی بنیادی ضرورت ہے۔
عاطف اکرام شیخ کا مزید کہنا تھا کہ سپر ٹیکس کی مد میں 300ارب روپے کی فوری ریکوری صنعتوں کی کمر توڑ دے گی۔ موجودہ حالات میں یہ ریکوری نہ صرف لیکویڈیٹی کا سنگین بحران پیدا کرے گی بلکہ پورے کاروباری نظام کو درہم برہم کر دے گی۔ اس لیے اس معاملے پر بھی کوئی معقول تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ اکنامی کا فروغ ناگزیر ہے۔ ضلع سطح پر ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او کی طرز پر ایک ڈسٹرکٹ اکنامک کمشنر کا تقرر بھی کیا جائے یہ اکنامک کمشنر ضلع سطح پر مصنوعات کے فروغ، صنعتی ریسرچ، صنعتی ترقی، انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معیشت میں شمولیت، ایس ایم ایز کا فروغ اور بہتر روزگار کی فراہمی کا ذمہ دار ہو اس حکمت عملی کے ذریعے لوگوں کو ان کی دہلیز پر معقول کاروبار اور روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔
ہمارا مقصد پاکستان کو ایک ایکسپورٹ لیڈ پاور ہاﺅس بنانا ہے۔ ہم پاکستان کے ہر ضلع میں انڈسٹریل ہب کھڑا کریں گے۔ انہوں ے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کیا جائے، سختی کے بجائے ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے انفورسمنٹ کی جائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر تاجررہنماوں نے وزیراعظم سے گزارش کی کہ راولپنڈی، اسلام اباد سے خیبر پختونخوا کو آٹے کی ترسیل کی بندش کا نوٹس لیںحکومت کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں کمی سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، بلیو پاسپورٹ سے وقار بلند، ایکسپورٹ لیڈ گروتھ بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کا فروغ ملکی ترقی کیلئے ناگزیر ہے،حکومتی معاشی پیکج سے ملک میں بند صنعتیں بحال ہونا شروع ہو جائیں گی، بزنس کمیونٹی حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں صدر ایف پی سی سی آئی نے اعتراف کیا وزیراعظم کے اعلان کے بعد اب بھی خطے میں سب زیادہ مہنگی بجلی پاکستان میں ہے مزید کمی آنے سے برآمدات میں غیر معمولی اضافہ پیدواری لاگت کم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ بجلی کے نرخوں میں صنعتوں کے لیئے رعایت سے پیدواری لاگت کم ہوگی عام آدمی کو بھی فائدہ ملنا چاہیے،وزارت تجارت کی شراکت سے ضلعی معیشت کا پلان آف ایکشن تیار کیا جارہا ہے.


