اسلام آباد(محمداکرم عابد)پاکستان کی معاشی ٹیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں دوٹوک واضح کردیا ہے کہ سرمایہ داروں سے سپرٹیکس کی وصولی میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، آئینی عدالت کے فیصلہ کے بعد اس کام کو مزید تیز کیا جائے گا اگر کسی متعلقہ رکن پارلیمان کی خواہش ہے کہ اس کی کمپنی سے سپرٹیکس کی وصولی کو تیز کیا جائے تو ہم تیار ہیں ،ٹیکس وصولی کے عمل کو تیز کرنے میں ایسی ایسی معززشخصیات ملوث ہیں نام بتادوں تو کمیٹی میں ہنگامہ کھڑا ہوسکتا ہے، قائمہ کمیٹی میں یہ بھی انکشاف ہواکہ سٹیٹ بنک کے حکام پانچ ہزار کے جعلی نوٹ کی شناخت میں ناکام رہے ۔

قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاوس میں منعقد ہوا ۔ کمیٹی کو آڈٹ حکام کی تربیت سے متعلق منصوبے میں تین سالوں سے تاخیر کی وجوہ سے آگاہ کیا گیا منصوبے کے تحت آڈٹ پیراز کی تیاری کے نئے جدیدطریقہ کار کے بارے میں بھی تربیتی کورسزشامل ہیں منصوبے کے تحت پاکستان اکاونٹس آڈٹ کمیٹی بھی بنے گی۔آڈٹ رپورٹس کی تیاری کو کاونٹر چیک ہوسکے گا ۔

اجلاس میں عبدالقادر،، شریں رحمان نے تاجروں کے سپرٹیکس سے متعلق تحفظات کا معاملہ اٹھادیا ۔ وزیرخزانہ نے چیئرمین ایف بی آر سے کہا کہ سپرٹیکس کی وصولی کے ٹائم فریم پر بات ہوسکتی ہے بیشترکمپنیوں نے اپنے کھاتوں میں سپرٹیکس کی پرویژن رکھ لی ہے ۔ ہم پر زور دیا جاتا ہے کہ پائیدار ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی طرف جانا ہے ،خسارے میں چلنے والے اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں انتہائی کرپشن نقائص تھے ہم نجی شعبہ کے لئے آسانیاں پیدا کررہے ہیں پی آئی اے کی نئی نجی انتظامیہ سرمایہ کاری کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتی ہے جب بنکوں کی نجکاری کی گئی تو پچاس ہزار لوگ فارغ ہوئے ،مزید ٹیکس اصلاحات کے لئے جلد پارلیمان سے رجو ع کریں گے ،

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ انفورسمنٹ کامعاملہ بھی اٹھا جو معززشخصیات سفارشیں اور رکاو¿ٹ پیدا کرتی ہیں ان کے نام یہاں لے دوں فوراًاعتراض اٹھ جائے گا اگر سپرٹیکس سے متعلق فیصلہ پر عملدرآمدکو تیز کرنا ہے تو ہم تیار ہیں چلواگر کسی سینیٹر کی کمپنی ہے تو اس سے آغاز کردیتے ہیں ۔ سپرٹیکس تین سوارب روپے نہیں 217ارب کی وصولی کا معاملہ ہے۔پارلیمان کا اختیار تھا اس نے قانون بنا کردیا،

اجلاس میں فائلرز کو ایف بی آر کی جانب سے ٹیکسٹ مسیجز بھیجنے کے معاملہ کا بھی جائزہ لیا گیا ،چیئرمین ایف بی آر کے مطابق میسج صرف ایف بی آر اور متعلقہ فائلر تک محدود ہوتا ہے۔ ایف بی آر کو فائدہ ہوا،فائلرز کی تعداد بڑھی،

وزیر خزانہ نے کہا کہ مجھے ذاتی حیثیت میں بطور وزیر خزانہ ایف بی آر کا میسج موصول ہوا،سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بھی میسج موصول ہونے کی تصدیق کردی۔زیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ جلدمجموعی گروتھ کے بارے میں صورتحال پر بریفنگ دیں گے،ٹیکنالوجی اصلاحات سے نتائج مثبت ہیں،خزانہ کمیٹی نے ٹیکس نظام میں لیکجز اور کرپش پر ان کیمرہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔،چئیر مین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ سپرٹیکس وصولی کے لئے بے فکر ہو جائیں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔

دنیش کمار کے سوالات پر قائمہ کمیٹی نے آزادوخودمختیار اداروں کمپنیوں میں صوبائی ملازمین کا ڈیٹا وزارت قانون سے طلب کرلیا ہے ۔

سٹیٹ بنک حکام نے بتایا کہ ملک میں جلد 10 روپے سے لے کر 5 ہزار روپے تک نئے ڈیزائن کی کرنسی استعمال ہوگی ۔کرنسی کیلئے استعمال ہونے والے نئے نوٹوں پر گورنر اسٹیٹ بینک کی خزانہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابھی باقاعدہ طور پر کابینہ کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی ہے ،نئے نوٹوں میں سیکورٹی فیچرز ایڈ کئے ہیں،پانچ ہزار کا نوٹ ختم کرنے کی کوئی تجویز نہیں،واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں 5 ہزار کا نوٹ ختم ہونے کی تجویز نہیں،نئے نوٹوں کے حوالے سے فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے،

چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ نئے ڈیزائن کے نوٹ کس طرح ڈیزائن کئے گئے ہیں؟
جس پر اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ ،ہم نئی ڈیزائن کرنسی قائمہ کمیٹی کو ان کیمرہ دکھا سکتے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک کی تجویز پر قائمہ کمیٹی خزانہ کا نئے نوٹوں پر ان کیمرہ آئندہ اجلاس ہوگا،

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے اس امر پر انکشاف کیا کہ انھوں نے پانچ ہزار کے تین کرنسی نوٹ سٹیٹ بنک کو دیئے ان میں ایک جعلی تھا میرے سٹاف کو ملا مگر آج تک یہ اس کی شناخت نہ کرسکے میرے نوٹ بھی واپس نہیں کئے ۔

اجلاس کی کاروائی کے دوارن کمیٹی نے کمرشل بینکوں کو ایس ایم ایس سروس پر چارجز وصولی سے روک دیا۔سلیم مانڈوی والا نے ایس ایم ایس سروس چارجز کی شکایت پر معاملہ بھی اٹھایا کہ بینکوں نے ایس ایم ایس سروسز چارجز سے اربوں روپے کما لئے،

چئیر مین ایف بی آر نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ
بینک صارفین سے ایس ایم ایس پر چارج وصول کرتے ہیں یہ زیادتی ہے،قائمہ کمیٹی خزانہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کو چارج وصولی روکنے کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی