اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دے دیا
جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں قراردیا گیا ہے کہ صرف قبضہ یا طویل عرصہ زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی اور زبانی معاہدوں کے مقدمات میں سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا.

سپریم کورٹ نے درخواست گزار غلام علی کی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے ہیں.

سپریم کورٹ نے کیس سی پی ایل اے نمبر 4361…….2024 غلام علی بنام علی شیر کے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ 1992 کا مبینہ زبانی معاہدہ قانون کے مطابق ثابت نہیں کیا گیا، زبانی معاہدہ ثابت کرنے کے لیے تاریخ، وقت، مقام، شرائط اور گواہوں کی تفصیل لازمی ہے، عدالتی تحریری مؤقف سے ہٹ کر دی گئی شہادت قابلِ قبول نہیں مدعیان کے مطابق 1992 میں ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے بعد صلح ہوئی، عدالت میں یہ دعویٰ کیا گیا جرگے میں فیصلہ ہوا کہ غلام علی 32 کنال زمین مدعیان کو دے گا مدعیان کے مطابق صلح کے بعد زمین کا قبضہ بھی انہیں دے دیا گیا تھا،

فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ مدعیان کے مطابق 2016 میں غلام علی نے انتقال رجسٹرڈ کرانے سے انکار کردیا ،

یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی طور پر مدعیان کا دعویٰ خارج کیا تھا لیکن اپیل میں مخصوص کارکردگی کا دعویٰ منظور کر لیا گیا تھا

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا.