کراچی(ای پی آئی)اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان لمٹیڈ (SCBL) نے مؤرخہ 31 دسمبر،2025ء کے لیے مالی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔
اعلان کے مطابق، بینک نے مستحکم مالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 58.5 ارب پاکستانی روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیاجبکہ گزشتہ سال یہ منافع 100.6 ارب روپے تھا۔
بینک کی آمدنی میں سال بہ سال کی بنیاد پرکمی واقع ہوئی تھی، جس کی اہم وجہ شرحِ سود میں نمایاں کمی تھی۔ شرح سود میں کمی کے باعث آمدنی پر پڑنے والے اثرات کو فنڈز کی لاگت میں کمی نے جزوی طور پر متوازن کیا۔
بلند افراطِ زر اور انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری کے باوجود، آپریٹنگ اخراجات کو مؤثر نظم و نسق اور عمدہ کارکردگی کے ذریعے قابو میں رکھا گیا، اور اِن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف6 فیصد اضافہ ہوا۔ مزید برآں، خطرات کے حوالے سے محتاط حکمتِ عملی اور ڈوبے ہوئے قرضوں کی وصولیوں کے باعث سال کے دوران 1.8 ارب پاکستانی روپے کی نیٹ ریلیز ریکارڈ کی گئی۔
واجبات کے شعبے میں، بینک کے مجموعی ڈپازٹس 650 ارب پاکستانی روپے رہے، جو زیر تذکرہ سال کے آغاز کے مقابلے میں22 فیصد کم تھے۔ یہ کمی ڈپازٹس میں بہتری کی مہم (deposit optimization initiative)کے باعث ہوئی، جس کی جھلک کرنٹ اکاؤنٹس کے بہتر تناسب میں نظر آتی ہے، جو گزشتہ سال کے 48 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر مجموعی ڈپازٹس کا 59 فیصد ہو گیا۔
اثاثوں کے شعبے میں، نیٹ ایڈوانسز نے مثبت رفتار برقرار رکھی اور سال کے آغاز سے اب تک 43 ارب پاکستانی روپے یا 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ بینک اپنے صارفین کی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے اور منافع بخش، مؤثر اور پائیدار پورٹ فولیو کی تشکیل کے لیے اپنی حکمتِ عملی جاری رکھے گا۔
سنہ2025ء کے دوران، بینک نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)کے ایجنٹ کی حیثیت س آمدنی پر براہِ راست ٹیکس کےعلاوہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) اور صوبائی سیلز ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں 52.2 ارب پاکستانی روپے جمع کرائے۔
بینک اپنے صارفین کے لیے بینکاری کےتجربے کو بہتر بنانے کی غرض سے جدید حل متعارف کرانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس طرح اپنی ڈیجیٹل صلاحیتوں اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔ ہم اپنی ممتاز سرحد پار صلاحیتوں کو ویلتھ منیجنٹ کی اعلیٰ مہارت کے ساتھ یکجا کرنے کے لیے اپنی حکمتِ عملی پر عمل درآمد جاری رکھیں گے۔کنٹرولز اور طرزِ عمل کے شعبے میں اپنی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے بعد، ہم اپنے خطرات، سرمائے اور لیکویڈیٹی کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے بھی بھرپور طور پر تیار ہیں۔ اس وقت اختیار کیے جانے والے محتاط اور پیشگی اقدامات کے باعث توقع ہے کہ ہم مزید مستحکم اور دانشمندانہ انداز میں مستقبل میں دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ان نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان لمٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج، ریحان شیخ نے کہا:”ہمارے نتائج مارکیٹ کے بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ ہماری مضبوط بیلنس شیٹ، متنوع پورٹ فولیو، کلائنٹ کے ساتھ گہرے تعلقات اور مستحکم کاروباری بنیادوں کی طاقت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایک بینک کے طور پر ہم اپنے مخصوص شعبوں میں سرگرم ہیں اور اپنے صارفین کی سرحد پار اور اور ایفلونٹ بینکاری ضروریات پوری کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ میں تمام حصص یافتگان، صارفین اور کاروباری شراکت داروں کا ہماری صلاحیتوں پر غیر متزلزل اعتماد اور بھروسا کرنے پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔“
زیرد تذکرہ سال کے لیےعمدہ ریٹرن آن ایکوئٹی (25 فیصد( اور کپیٹل ایڈیکوئسی ریشو (21.9 فیصد( کے ساتھ، بینک مستقبل میں ترقی کے لیے مستحکم پوزیشن میں ہے۔ علاوہ ازیں، اپنی مستحکم کارکردگی کی بنیاد پر، بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حتمی نقد منافع منقسم کے طور پر فی حصص 3.0 روپے کا اعلان کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا، جو عارضی نقد منافع منقسم 3.5 روپے فی حصص کے علاوہ ہے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کو بین الاقوامی فنانس کارپوریشن اور پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے بہترین 10 ملازمین کے انتخاب والے اداروں میں شامل ہونے کے اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے۔
مزید برآں، کمیونیٹیز میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے بینک کی کوششیں سنہ2025ء میں متنوع اقدامات کے ذریعے اجاگر کی گئی۔ ایس سی ویمن اِن ٹیک پروگرام کی صورت میں بینک ٹیکنالوجی کے شعبے میں صنفی تفاوت کو دور کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بینک ،گول ایکسلریٹر پروگرام کے تحت کھیل کی صورت میں کام کرتا ہے اور کم مراعات یافتہ علاقوں کی لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے معاشی طور پر مضبوط ہونے کے ٹھوس راستے فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بینک نے کراچی یونائٹیڈ کے ساتھ شراکت میں کراچی یوتھ لیگ فٹبال ٹورنامنٹ منعقد کیا تاکہ مسلسل آٹھویں برس بھی بچوں میں کھیلوں کو فروغ دیا جا سکے۔
بینک اپنے حصص یافتگان کے لیے پائیدار ترقی فراہم کرنے، اپنے صارفین کے لیے بہترین معیار کی خدمات اور حل متعارف کرانے، اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔


