اسلام آباد(محمداکرم عابد)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور کی قائمقام چیئرپرسن شگفتہ جمانی نے کمیٹی اجلاس کی کاروائی کے دوران دعوی کیا ہے کہ حج خدمات کامعاہدہ بلیک لسٹ کمپنی سے کیا گیا ہے۔

کمیٹی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور نے وزیر مذہبی امور سے حج معاونین اور حج کے دیگر امور سے متعلق پیشرف کی رپورٹ مانگ لی۔ کمیٹی کے مطابق حج اور دیگر معاملات پر بہت سے تجربات کیے جا رہے ہیں۔وزارت حج کا ہر افسر ا کر نیا تجربہ کرتا ہے۔ سعودی کمپنی راجی سے تین برس سے حج خدمات کے لیے معاہدہ کیا جا رہا ہے۔۔

شگفتہ جمانی نے کہا کہ یہ کمپنی بلیک لسٹ ہو چکی ہے،بتایا جائے کتنی کمپنیوں نے اس مرتبہ سروسز فراہمی کے لیے اپلائی کیا تھا۔حج معاونین کے لیے 39 ہزار درخواستیں آئیں، 800 کا انتخاب کیا گیا،حج معاونین کے لیے 45 برس کی شرط کیوں ہے۔ ریٹائرمنٹ کے لیے 60 برس کی عمر ہے تو معاونین کے لیے 45 برس کیوں ہے،

کمیٹی نے ہدایت کی کہ حج معاونین کے لیے جو تحریری امتحان لیا گیا، وہ پرچہ فراہم کیا جائے۔بریفنگ کی روشنی میں حج معاملات سے متعلق ذیلی کمیٹی بنانے پر غور کیا جائے گا۔

شگفتہ جمانی نے مزید کہا کہ ہمیں حج کے ہر معاملے پر کہا جاتا ہے کہ سعودی ہدایات کی روشنی میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہمیں نہیں پتاچلتا کہ کون سا قدم سعودی ہدایت پہ اٹھایا گیا ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے لئے صرف ساڑھے آٹھ کروڑ روپے فنڈز رکھے جانے پرارکان کمیٹی نے اظہارتشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہتقریباً 88 لاکھ اقلیتی افراد کے لئے وظائف، امداد اور ترقیاتی فنڈ ساڑھے 8 کروڑ روپے ہونا مذاق ہے۔وزیراعظم کو فنڈز بڑھانے کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اقلیتی فنڈز بڑھا کر 50 کروڑ روپے کیا جائے۔

وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں مگر فنڈز اتنے کم کیوں ہیں۔ہم نے اگلے برس اقلیتی فنڈز کے لیے 15 کروڑ روپے مانگے ہیں۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر اقلیتی رکن قومی اسمبلی کو کم از کم 10 کروڑ روپے ملنے چاہیے۔ 50 کروڑ روپے کا اقلیتی فنڈ ناگزیر ہے۔

چیئرمین کمیٹی شگفتہ جمانی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کو کم از کم ایک ارب روپے ملنے چاہیے۔ ترقیاتی فنڈز کی مد میں ایک کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

نیلسن عظیم نے مزیدکہا کہ ایک کروڑ روپے سے ملک بھر کے مندر اور چرچز کی دیکھ بھال کیسے ممکن ہے۔ کسی چرچ کو 10 ہزار اور کسی کو لاکھ، دو لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔ اقلیتی طلبہ کو جو سکالرشپ دی جاتی ہے وہ برائے نام ہے۔اقلیتی طلبا کے لیے مزید فنڈز رکھے جائیں۔پارلیمانی وفدکے پر ماہ ربیع الاول میں دورہ سعودی عرب کے لئے قائمہ کمیٹی وزرات مذہبی امورنے اسپیکر کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

کمیٹی نے وفد کے لئے سٹیٹ گیسٹ کا درجہ مانگ لیا۔وفد کی سعودی عرب میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی رکھی جائیں۔کمیٹی نے سفارش کردی،اسپیکر آفس کئی پارلیمانی وفود سرکاری خرچ پر بیرون ملک بھجواتا ہے۔