پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں سیاسی کشیدگی نمایاں تھی۔پارلیمانی راہداریوں میں وزیراعظم شہبازشریف کی امریکی صدر کو امن کا ایوارڈ دینے کی سفارش سے متعلق سوالات حکمران اتحاد کا تعاقب کررہے تھے۔بلاول بھٹو کوبھی اس کا سامناکرنا پڑگیا وہ خاموشی سے ایوان میں چلے گئے،سابق وزیراعظم نوازشریف نہ آسکے۔شہراقتدارمیں اس امر پر حیرانگی کا اظہار کیا جارہا ہے کہ حکمران اتحاد کے دعوؤں کے باجوداپوزیشن سے مزکراتی داغ بیل کیوں نہ ڈالی جاسکی۔پی ٹی آئی بھانپ گئی تھی کہ مشترکہ اجلاس میں صدر زرداری کے خطاب کے موقع پر احتجاج کے خلاف حفاظتی اقدامات کے تحت مذاکرات کی خبریں اڑائی گئیں اس پر اپوزیشن نے مذکراتی ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کردیا اس پر مذاکرات کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،تمام معاملات مخالفت برائے مخالفت میں نہ مانوں کی نظر ہورہے ہیں اور عوامی مسائل سے کس کوئی سروکار نظر نہیں آتا اس ماحول میں نئے پارلیمانی سال کے آئینی تقاضا کی تکمیل،صدارتی خطاب کے لئے مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ مہمانوں کی گیلری میں وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کمی محسوس کی گئی۔ وزیراعلی مریم نوازشریف عین اپوزیشن کی نشستوں کے سامنے اسپیکر گیلری میں براجمان تھیں اور انھیں پارٹی قیادت کے خلاف سخت نعرے سننے پڑے۔اجلاس میں تمام ترکوششوں کے باوجود حساس خارجہ و سلامتی امور کے پیش نظر اپوزیشن کے صدر کے سامنے احتجاج کونہ رکوایا جاسکا۔وزیراعظم شہبازشریف موجودتھے عرصہ دراز کے بعد وہ ایوان میں آئے۔ صدر خطاب کرنے آئے تو ایوان گوزرداری گو،ساراٹبر چور ہے عمران خان کو رہا کرو،ہم آئین بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پیپلزپارٹی ارکان صبر وتحمل سے اپنے صدر کے خلاف نعرے سنتے رہے۔ حسب روایت ڈائس پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر موجودتھی۔ پی ٹی آئی ارکان نے عمران خان زندہ باد کا نعرہ لگایا تو زرداری مسکرادیئے۔پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لئے ایوان میں داخل ہوتے پی ٹی آئی ارکان پارلیمان نے عمران خان کی تصاویراٹھا رکھی تھی،سیاسی کشیدگی نمایاں تھیں،امریکہ اسرائیل کی ایران پر جارحیت سے متعلق پراسرارخاموشی تھی۔ غلام گردشوں میں بازگشت ضرورتھی۔ناقدین کے مطابق اپوزیشن اب بھی اپنے معاملات کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے رسمی کاروائی کے علاوہ آگے نہیں بڑھ رہی ہے،ایسے میں پارلیمانی رہداریوں میں اسمبلیوں سے استعفوں کے تزکرے ضرور سننے کو ملتے ہیں۔لگتا یہی ہے کہ اپوزیشن پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر آمادہ ہے،بس رسمی طور پر موجودہ رجیم کو آئینی طور پر تسلیم کرنے کا اعلان باقی ہے ویسے اپوزیش حلقوں سے حکومت کے لئے چین ہی چین لکھا جارہا ہے۔ مشترکہ اجلاس میں نوازشریف،سہیل آفریدی کی کمی محسوس کی گئی۔وزیراعظم روایت کے برعکس انتہائی سنجیدہ دکھائی دیئے روایتی خوشگوار موڈ کی عکاسی نہ تھی۔ بلاول زرداری، آصفہ زرداری بھی موجود تھی۔ میڈیا نے وزیراعظم شہبازشریف کی دورہ امریکہ کے موقع پر ٹرمپ کی موجودگی میں امن کا عالمی ایوارڈ دینے کے پرزور سفارش سے متعلق سوالات کئے کسی نے جواب نہ دیئے،شہبازشریف کی یہ وڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔ سب اس پر اظہار تشویش کررہے ہیں۔ مشترکہ اجلاس سے صدارتی خطاب پر تیسرے پارلیمانی سال کا آغاز ہوگیا ہے۔