اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ نے بھتہ دینے سے انکار پر سرکاری ملازم کو اغواء کرنے والے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں مقدمے کا فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم اگر ضمانت کا غلط استعمال کرے تو منسوخی کیلئے رجوع کیا جا سکتا ہے.
جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو مدعی کے وکیل نے دلائل میں بتایا کہ ملزم پر اغواء کے دیگر اٹھارہ مقدمات بھی درج ہیں، ملزم کے گھر سے مغوی کی سرکاری گاڑی بھی برآمد ہوئی اور
ملزم کو پانچ گھنٹے کے پولیس مقابلے کے بعد گرفتاری کیا گیا،
جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال اٹھایا کہ پانچ گھنٹے فائرنگ ہوئی تو ملزم بچ کیسے گیا؟ جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم کے گھر سے گرنیڈ بھی برآمد ہوئے، ملزم بااثر اور اس کا تعلق سیاست سے ہے،
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ملزم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے ملک کو کیا سمجھ لیا ہے؟ سرکاری ملازمین کو اغواء کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے..
یاد رہے کہ ملزم بنگول خان پربلوچستان کے شہر قلعہ سیف اللہ میں سرکاری ملازم کو اغواء کرنے کا الزام ہے .


