اسلام آباد(ای پی‌آئی) بینک دولتِ پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مالی سال کے آغاز میں پاکستان کے کلیدی معاشی اظہاریے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا اور معاشی منظرنامے کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ کیا ہے، تاہم ان ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے معیشت گذشتہ بحرانی اقساط کی نسبت بہتر پوزیشن میں ہے۔

گورنر جمیل احمد نے ان خیالات کا اظہار معروف عالمی مالی اور سرمایہ کاری کے اداروں بشمول جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن کے ساتھ ساتھ فچ، موڈیز، اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں میں کیا۔ جن کا اہتمام 13 تا 18 اپریل 2026ء تک آئی ایم ایف – عالمی بینک کی اسپرنگ میٹنگز کے موقع کیا گیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

گورنر نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ کا تنازع شروع ہونے سے قبل ہی اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے خاصی پیش رفت کرلی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محتاط زری اور مالیاتی پالیسی کے امتزاج سے ملک کے مالیاتی اور بیرونی بفرز کو مضبوط کرتے ہوئے، مہنگائی کو کم کرنے اور اسے ہدف کی حد کے اندر مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ گورنر نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مہنگائی اوسطاً 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس رہا، اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی بین البینک مارکیٹ(interbank market) سے خریداری تھی۔

انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اسٹیٹ بینک کی مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی آمد، بشمول نئے دوطرفہ انتظامات کے تحت، جون 2026ء تک یہ توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھ کر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ گورنر نے وضاحت کی کہ بہتر معاشی استحکام نےمعاشی نمو کی بتدریج، پائیدار، وسیع البنیاد بحالی میں اپنا کردار ادا کیا۔ مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی وسیع البنیاد اضافے سے بڑھ کر 3.8 فیصد تک پہنچ گئی، جو گذشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 1.8 فیصد درج کی گئی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محتاط پالیسی سمت کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ابتدائی حالات بیرونی دھچکوں کے پچھلے ادوار، جیسا کہ 2022ء کے اوائل میں روس یوکرین تنازع ،کےمقابلےمیں آج نمایاں طور پر مضبوط ہیں۔

گورنر جمیل احمد نے کہا کہ بہتر ابتدائی حالات کی وساطت سے معیشت کی صورتِ حال مضبوط رہی، تاہم اسے اب مشرق وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ پیش رفتوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں توانائی کی عالمی قیمتوں اور باربرداری اور بیمہ اخراجات میں بڑی حد تک اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی، حقیقی پالیسی ریٹ کو بڑی حد تک مثبت رکھنے کے حوالے سے محتاط رہی ہے۔ مزید برآں، حکومت نے ابتدائی مالیاتی سرپلس درج کیے ہیں۔ جاری تنازعات کے تناظر میں، اس نے ہدفی زرِ اعانت(subsidies) کا نفاذ کیا اور طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ گورنر نے توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اور سسٹین ایبلٹی سہولت کے دوسرے جائزے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ایجنسی کی طرف سے کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق کو بھی نوٹ کیا، جو کہ معاشی استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مستقل عزم کا اعتراف ہے۔

اپنے دورے کے دوران، گورنر جمیل احمد نے ترسیلاتِ زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ روڈ شو میں پاکستانی تارکین وطن اور متعلقہ عالمی فریقوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے 917,000 سے زیادہ آر ڈی اے اکاؤنٹس میں رقوم کے 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے سنگ میل کی کامیابی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آر ڈی اے ضوابطی فریم ورک میں حالیہ اضافے کا بھی خاکہ پیش کیا، جس میں غیر اقامتی اداروں کی شمولیت بھی شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالی مارکیٹس میں مزید مربوط کرنا اور ملک میں وسیع پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی ترغیب دلانا ہے ۔