پاکستان کو اقوم عالم میں یہ ممتاذمقام ملا ہے کہ اس نے ایران امریکہ میں مستقل جنگ بندی کے لئے ثالثی کی نازک ڈورکئی بار بار ٹوٹتے بچائی ہے اس کے لئے رسک بھی لیا ہے، یعنی ایران امریکہ ثالثی کے لئے پاکستان کی اعلی سیاسی وعسکری قیادت انتھک کاوشیں کررہی ہے ہرقسم کا اثرورسوخ بروئے کارلایا جارہا ہے، ساری دنیا ہماری بات سن رہی ہے.ہماری تجاویز کو عالمی تائید مل رہی ہے۔اگرچہ ہمارے زمہ داران نے جنوبی ایشاء میں قیام امن میں حائل رکاؤٹوں کا بین السطورتذکرہ کیا ہے،براہ راست مسئلہ کی بنیادپرموجودہ حالات میں فی الحال بات نہیں کی۔جنگ بندی کے لئے ہماری اپیل کو پزیرائی ملی، دونوں شراکت دار آمادہ مذاکرات ہوئے اسلام آباد پر دنیا کی نظریں لگی ہیں۔

اہم اسلامی ممالک ہماری طرف دیکھ رہے ہیں،امریکی صدرپاکستان کی قیادت سے مرعوب ہے توقارئین یہی تو سنہری موقع ہے کہ ہم بھی جنوبی ایشامیں تنازعات کی فہرست عالمی برادری کے سامنے رکھ دیں،ساڑھے لاکھ بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں زندگی کو اجیرن بنائے ہوئے ہے، ہرقسم کی بنیادی انسانی حقوق کی پائمالی ہورہی ہے کہنے والے تو سارے مقبوضہ کشمیرکو جیل قراردے رہے ہیں ساری وادی محاصرے میں ہے،ہم نے ایران امریکہ میں سہولت کاری کے لئے جنگ بندی کی اپیل کی تو ساری دنیا میں ہلچل مچ گئی پاکستان ٹاپ ٹرینڈ بن گیا پاکستانی پاسپورٹ امن کی علامت کی عکاسی کرتا دکھائی دیا سب نے بیرون ملک پاکستانی ہونے پر فخر کا اظہار کیا۔

ہر ایک کی تمنا اسلام آباد آنے کی ہے تو ہم بھی تو اپنا مقدمہ کشمیر دنیا کے سامنے پیش کردیں آپشن استعمال کریں،ہمت دکھائیں،فکرمندی کیسی سب تو آپ کو سننے کو بیتاب ہیں اگر مگر کے مشوروں پر کان نہ دھریں۔ دوٹوک واضح کریں یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے جنوبی ایشا کا امن داؤ پر لگا ہے،کشمیر پردنیا اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔ جنگ بندی کے معاہدے کی طرح یہاں بھی قراردادیں موجودہیں،دنیاہماری طرف متوجہ ہے۔مسئلہ کشمیرپر نئے احساس کی بیداری ضروری ہے،کشمیریوں کو بھی نسل کشی کا سامنا ہے، کشمیریوں کا لہو پکارپکار ہے مائیں بہنیں بچے بزرگ سب پکار رہے ہیں کہ ہمارے لئے بھی کوئی عالمی سفارکاری۔حق خودارادیت، مظلومیت کی دہائی ہے۔

اہم فورمز پر مسئلہ اٹھانے کا موقع ہے ایک اور عظیم کاکارنامہ کے ساتھ کارکردگی شیٹ بن سکتی ہے۔یقین کریں ایران کی آوازبھی شامل ہوگی،اور کچھ نہیں تو اعلی سیاسی سیاسی عسکری قیادت صدر ٹرمپ سے سرگوشیوں میں مسئلہ کشمیر کی بات کردیں یہی تو ہماری سفارتی اخلاقی سیاسی حمایت کا تقاضا ہے۔دنیا کو آگاہی ہے۔ کہ5 جنوری1949کو عالمی برادری نے مظلوم کشمیریوں سے حقِ خودارادیت کا وعدہ کیا، موجودہ انتہائی فیصلہ کن سفارتی کے دن ہیں،اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق دلانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔ بھارتی مظالم کے خلاف شدید نفرت اور غم و غصے کا اظہار کافی نہیں ہے ایک سفارتی معرکہ کشمیر کے لئے بھی ناگزیر ہے۔ ورنہ جنگ کے خطرات موجود رہیں گے،وزیراعظم شہبازشریف کچھ توانائیاں ادھر بھی صرف کریں، انسان دوست مظلوموں کے لئے عالمی ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑتے رہیں گے۔

یہ وقت ہے کہ مقدمہ کشمیر کی دہائی دیں،عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی نہیں کر سکتی۔ٹرمپ پھر اعتمادکا اظہار کررہا ہے کوئی تو کاوش کریں بات تو کردیں،ویسے بھی امریکہ سے بھارت کو زیادہ لفٹ نہیں مل رہی ہے،آبنائے ہرمز سے گزرنے پر بھارتی تیل بردارجہازوں کا فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا اور کوئی اس کی مدد کو نہ آیا ایران نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پربس واپس جانے دیا۔ بھارت تنہا ہے۔ سفارتی طور پر کمزور ہے،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کاری سفارتی ضرب لگانے کی ضرورت ہے،ماضی کے خالی بیانات ایام منانے سے کشمیریوں کو کچھ نہیں ملا ظلم یہ ہورہا ہے کہ جغرافیائی حثیت بدلنے کے منصوبے کارفرما ہے۔

موقع ضائع نہ کریں انگار وادی کا مقدمہ پیش کریں۔کشمیر پر دنیا کو نئے عزم کے ساتھ متوجہ کریں جو مقام ملا ہے قیادت پر قرض ہے کہ کشمیر یوں کے دلوں کی دھڑکن سنیں،ثالثی کے کردار سے اپنے لئے سنہرے ایام کی امیدیں قائم کرلی ہیں۔مقدمہ کشمیر کے لئے بہترین سفارتی موسم آیا ہے۔ کنجی کے لئے مضبوط ہاتھوں کی ضرورت ہے۔دنیا ہماری ہر بات سننے کوآمادہ نظر آرہی ہے تاریخ کے بے رحم مورخ کو یادرکھیں۔کشمیر پر آب زر سے لکھنے والی تاریخ کا حالات پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔