اسلام آباد(محمد اکرم عابد)پارلیمینٹ کی پبلک اکاونٹس کی خصوصی کمیٹی میں اوجی ڈی سی ایل کے27 افسران کی بھاری سرکاری فیس پر اسلام آباد کلب کی رکنیت کا انکشاف ہوا ہے۔
اشرافیہ کے کلب کی ممبرشپ کے لئے 27افسران کی 2کروڑ70لاکھ (27ملین )روپے کی فیس ادا کیئے گئے ۔
کنوئینرکمیٹی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادھر بادشاہ والا قوم کے لئے فقیروں والاماحول ہے۔وزرات پٹرولیم سے اس بارے میں کسی اور سرکاری جگہ پر ایسی مثال کے بارے میں پوچھا گیا کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا ۔
پی اے سی نے پالیسی پر نظرثانی کے لئے وزارت خزانہ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی جب کہ اجلاس میں آڈٹ کی جانب سے سیاسی پیرازبنانے کی بازگشت بھی سنائی دی ہے ۔
اجلاس کنوئینرکمیٹی سیدنویدقمر کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاوس میں منعقد ہوا جس میں وزارت پٹرولیم ایج ڈی اسی ایل منسلک اداروں کمپنیوں کے سالانہ حسابات پر آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔
گیس کمپنیوں کے بعض معاملات میں بلاجواز عدالتی مقدمات پر سربراہ کمیٹی نے ابزرویشن دی ہے کہ وکیلوں کی فیس کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
گیس کنووں کے حادثات پر ایک ارب روپے سے زائد انشورنس کی رقم بھی متعلقہ کمپنی سے وصول نہ کی جاسکی ۔حفاظتی انتظامات نہ ہونے کا اعتراض کیا گیا تھا انشورنش رقم پھنس گئی حکام نے زمہ داری قبول کرنے کی بجائے موقف اختیار کیا کہ کمپنی عدم ادائیگی کیلئے بہانہ بناتی رہی دوبئی میں کیس ہار گئے ۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو بورڈسے رجوع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
خلاف ضابطہ ایس آر اوز کی توسیع پر اس کے سرکاری دفاع اور مخالفت پر نوید قمر نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یہ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا معاملہ ہے ۔ خلاف ضابطہ توسیع سے متعلق پیشگی وزارت قانون سے رائے لینے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
کمیٹی نے کرک میں گیس کمپنی کی 1300کینال سے زائد زمینوں کا قبضہ تاحال نہ لینے پر فوری طورمتعلقہ ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کی ہدایت کرتے ہوئے اڈٹ کو ٹائم فریم سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
اجلاس میں ہیڈکوارٹر اور منسلک گیس کمپنیوں کے 27افسران کی اشرافیہ کے اسلام آباد کلب کی ممبر شپ کے لئے قومی خزانہ سے 27ملین کی ادائیگی کا بھی انکشاف ہوا ہے ایم ڈی مطئمن نہ کرسکے۔
نویدقمر نے جوابدہی کی کہ کیا اور کسی سرکاری کمپنی کی نظیر ملتی ہے جس پر ایم ڈی کوئی تسلی بخش جواب دینے کی بجائے بنکوں کے حوالے دینے لگے جس پر ان کے اس بیان پر کمیٹی سربراہ نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ سے پالیسی کے لئے رہنمائی لینے کی ہدایت کردی۔۔
خیال رہے کہ بنکوں کی نجکاری ہوچکی ہے اور ایم ڈی ان کے حوالے دیتے دکھائی دیئے۔


