اسلام آباد(محمداکرم عابد)ملک میں قرضوں کی حد ایکٹ آف پارلیمینٹ سے تجاوزکرگئی، بھاری قرضوں پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں ایسا ہوتا تو حکومت گرجاتی،، قرضوں کی سہ ماہی رپورٹ بھی پارلیمنٹ میں پیش نہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے.
چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس منعقدہوا جس میں انکشاف ہوا ہے کہ نئے بجٹ میں عوامی ریلیف کا دورتک امکان نہیں ہے ،ارکان کا کہنا تھا کہ تجارتی مراکز میں سناٹا ہے۔افراط زر14 فی صدتک پہنچ ہے۔ موثرحکمت عملی کا فقدان ہے ہرروز اپنی پالیسیوں کا ملبہ کس اور پر گرایا جارہا ہے ۔
اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے ملکی قرضوں پر بریفنگ دی گئی وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی نے تازہ اقتصادی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایکٹ آف پارلیمینٹ کے تحت قرضوں کی حد جی ڈی پی کے 60 فیصد پر ہونی چاہیے۔گذشتہ برس قرضوں کی حد جی ڈی پی کی 69.9 فیصد تھی ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق قرضوں کی حد 63.4 فیصد تک ہو چکی ہے ۔رواں سال ملکی قرضوں میں کمی کا امکان ہے ۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ2022 میں مقامی قرضوں کی میچورٹی 2 سال 6 ماہ تھی ۔ڈیبٹ منیجمنٹ آفس میں اصلاحات سے قرضوں کی میچورٹی کی مدت کو بڑھایا گیا ہے ۔ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی ری پروفائلنگ کی گئی ہے ۔
کمیٹی رکن نے کہا کہ قرضوں کی مقررہ حد کے قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔نویدقمر نے بھی تصدیق کی کہ ملک میں ہر روز قرضوں کی مقررہ حد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔حکام کے مطابق مالیاتی خسارہ بڑھنے کی وجہ سے قرضے بڑھ رہے ہیں بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے اقدامات کیے ہیں،حکومت اس وقت پرائمری سرپلس میں ہے۔۔
سربراہ کمیٹی نے کہا کہ ملکی قرضوں کی سہ ماہی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے،قانون پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔کمیٹی نے مالیاتی زمہ داری وقرضہ حدترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔ترمیمی ایکٹ کے تحت وزارت خزانہ کو ڈیبٹ آفس میں ایک ڈائریکٹر کی تعیناتی کا اختیار دے دیا گیا۔
کمیٹی رکن جاویدحنیف کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ساٹھ فی صد سے زائد قرضہ تجاوزکرجاتا توحکومت گرجاتی۔


