اسلام آباد(ای پی آئی) ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدرنے کہاہے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور فوری طور پر طلباء یونین بحال کی جائیں حکومت نے مطالبات نہ مانے تو ملک گیر تحریک شروع کی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دیگر ذمہ داران ناظم شمالی پنجاب احمد عبد اللّٰه، مصعب روحان سیکرٹری صوبہ، حاشر عباسی ناظم اسلام آباد، محمد آصف ناظم راولپنڈی، رومان ایوب مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری اطلاعات اور اعجاز الحمید ناصری سیکرٹری اطلاعات اسلام آباد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ تعلیم پوری قوم کا کاز ہے، تعلیم کے فروغ کے لیے پوری قوم کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، ملک کی ترقی کا راز تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری ہے، پاکستان میں 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،تعلیم کا شعبہ بے پناہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، دو کروڑ 62 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، حکومت کی سطح پر کہیں بھی آؤٹ آف سکول بچوں کی بات نہیں ہو رہی، ریاست اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی ہے۔

صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہاکہ بجائے اس کے کہ حکومت تعلیم کے مسائل حل کرے ، وہ تعلیم کے شعبے سے جان چھڑا رہی ہے، جی ڈی پی کا صرف اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کیا جارہا ہے، جامعات اس وقت شدید مسائل کا سامنا کر رہی ہیں. 2017 میں جو اعلی تعلیم کا بجٹ تھاآج بھی وہی ہے، 25 لاکھ طلباء سرکاری جامعات میں زیرتعلیم ہیں، یونیورسٹیاں مالی بحران سے گزر رہی ہیں، فنڈز کی شدید کمی ہے،

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سالوں میں گلوبل رینکنگ میں پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی ٹاپ 300 میں شامل نہیں ہو سکی، ہر سرکاری یونیورسٹی کی فی سمسٹر فیس 50، 60 ہزار ہو چکی ہے، غریب آدمی کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو چکا ہے،

ناظم اعلی نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ تعلیم کے مسائل کے حل کے لیے نوجوانوں کو فعال کرے گی، تعلیم کو بجانے اور بجٹ میں اضافے کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ تحریک چلائے گی، 10 لاکھ ڈگری ہولڈر نوجوان بے روزگار ہیں، پروفیشنلز روزگار نہ ملنے کی وجہ سے بیرون ملک جارہے ہیں، سمسٹر سسٹم بھی تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہاکہ تعلیمی اداروں میں معیار پر سمجھوتہ کیا جارہا ہے، 258یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال کی رپورٹ تشویشناک ہے، ڈرگ کی ڈیلر پنکی کو بادشاہوں کی طرح عدالت میں پیش کرنا افسوسناک ہے، کیمبرج کے پیپرز کا لیک ہونا ایک بہت بڑا سیکنڈل ہے،اگر طلباء ڈگری لے بھی لیں تو طلباء سے ایٹسٹیشن کے نام پر بھاری رقوم بٹوری جاتی ہیں، طلباء کے مسائل کی اصل وجہ سٹوڈنٹ یونین کا نہ ہونا ہے،

انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی لاہور میں ہاسٹل مسائل پر بات کرنے پر چار طالبات کو نکال دیا گیا، ناروال میڈیکل کالج میں طلباء کو انتظامیہ نے آواز اٹھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا، جی ڈی پی کا 4 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے،حکومت فوری طور پر سٹوڈنٹ یونین کو بحال کرے،

صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہاکہ ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم ہر آئنی و قانونی راستہ اختیار کریں گے اور تحریک شروع کریں گے۔