اسلام آباد(محمداکرم عابد)سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ ایوان صدر صوبوں اور چین میں معاشی سماجی زرعی دیگر منصوبوں کے لئے کردار اداکرنے کو تیار ہے ،صوبے اپنی تجاویز ایوان صدر بھیج سکتے ہیں۔
صدرمملکت چین کے متعلقہ صوبوں سے بات کریں گے،پی ٹی آئی دورمیں پاک چین اقتصادی راہدری پر کام بند ہوا ایسا نہ ہوتا تو آج گوادر میں غیرمعمولی تجارتی سرگرمیاں ہوتی سپر پاور ہمارا انتظار نہیں کرسکتا ،جلد پاکستانی فلم مولاجٹ نمائش کے لئے چین میں پیش کردی جائے گی،صدر زرداری کے دورہ چین میں پیش رفت ہوئی ۔
فلم کی چینی میں زبان ڈبنگ کی گئی ہے،ایوان صدر میں ترجمان مرتضی سولنگی ،پریس سیکرٹری دانیال گیلانی کے ہمراہ صدر مملکت کے دورہ چین پرسینئرصحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے سی پیک مغربی روٹ پر کام کی جلد بحالی کے لئے کہا کہ صدر کوذرائع ابلاغ کی تجاویز سے آگاہ کیا جائے ۔
خیال رہے کہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا صدر پاکستان کے حالیہ دورہ چین میں ہمراہ تھے ۔انھوں نے میڈیا کو پاک چین نئے معاہدوں سے آگاہ کیا ان میں سب میرینز،زراعت ،کراچی میں سمندر سے میٹھے پانی کے پلانٹ ،چائے کی پیداور، مشترکہ فلمسازی،مصنوعی ذہانت، بچوں کی ہارٹ سرجری،جانوروں کی ویکسینشن سے متعلق چھ معاہدے و مفاہمتی یاداشت شامل ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ پاک چین سفارتی دوستی کے حوالے سے 2026تاریخی سال ہے۔جدیدچین کے بانی ماوزے تنگ کے گھر صدر پاکستان کی زبردست پزیرائی کی گئی اور چینی قیادت انتہائی خوش تھی۔ چینی ہارٹ سرجری کے ماہر سے ملاقات میں انھیں پاکستان کے اعزازسے نوازگیا،یہ بچوں کی ہارٹ سرجری کے ماہر ہیں ۔جلد پاکستان آئیں گے۔
اسی موقع پر صدر پاکستان نے بے ساختہ کہا کہ اب تو ہارٹ ٹو ہارٹ دوستی ہوگئی ہے ۔ا
نھوں نے کہا پی ٹی آئی دور میں سی پیک پر کام بند ہوگیا تھا معاشی سپر پاو¿ر کسی کاانتظار نہیں کرتا وہی ٹرین چین ایران میں شروع ہوچکی ہے گیس پائپ لائن بھی وہاں بچھ گئی اب ٹرین کے ذریعے بھی چین ایران سے تیل لے سکتا ہے ،ہم نے تاخیر کردی ہم کہاں کھڑے ہیں ،سی پیک مکمل ہونے پر معاشی طاقت خودمختیاری میں پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے ہم بھی کیوں نہیں اقتصادی طاقت بن سکتے سی پیک سے متعلق وہ میڈیا کی تجاویز سے صدر پاکستان کو آگاہ کریں گے۔
صدر پاکستان کے دورے کا ایران امریکہ جنگ کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے ،ایسے دورے مہینوں پہلے طے ہوتے ہیں ۔اہم منصوبوں میں پیش رفت ہوئی ہے
۔صدر پاکستان اور چین کے صدر ملتے رہتے ہیں یہ خصوصی طور پر صدر شی سے صرف ملاقات نہیں بلکہ معاشی سماجی دفاعی مقاصد تھے ۔ دیگر صوبوں کے رابطوں کے لئے ایوان صدر تیار ہے کیونکہ چین کے صوبے تیزی سے معاشی قوت بن رہے ہیں ایک ایک صوبے کی معاشی سرگرمیاں پانچ ٹریلین تک پہنچ چکی ہے ۔ اور پاکستان کے صوبوں سے معاشی تعلقات استوار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔


