اسلام آباد(محمداکرم عابد) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں مشہورزمانہ منشیات فروش انمول پنکی کے ساتھ سندھ وپنجاب پولیس کے نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ملک و بیرون ملک رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی مل گیا ہے۔ سولہ اکاؤنٹس منجمندکرنے کئے لئے ایف آئی اے سے معاونت طلب کرلی گئی ۔ملزمہ کو پروٹوکول کے زمہ دار ایس پی کو معطل کردیا گیا ہے ،لاہور سے گھیرکر کراچی لاکر ملزمہ کو گرفتار کیا گیا۔ جعلی شناختی کارڈ بنانے کا مقدمہ بھی بنادیا گیا۔ اے این ایف چھہ سالوں سے کوئی کاروائی نہ کرسکی ۔
کمیٹی نے پنڈی کے آر پی او کو قبائل کے تصدیق نامے پرائیوٹ شخص سے لینے سے بھی روک دیا ہے۔ نادرا نے اسے غیر قانونی قراردے دیا ہے۔ سلیمان خیل قبائل کی شہریت سے متعلق حتمی جواب مانگ لیا گیا ہے ۔ کمیٹی میں غیرت کے نام پر قتل کی سزا اور اسلام آباد میں میٹرو بس کے ضابطہ کار سے متعلق بلز منظور کرلئے گئے۔منظور کاکڑ نے صدیوں سے رہائش پزیر قبائل کی شہریت کے معاملے پر بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ مسئلہ سلیمان خیل قبائل کو پیش آرہا ہے اور ان کی 1901میں شماریات بھی ہوئی تھی ۔زیادہ کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان،وزیرستان،ژوب سے ہے اور راولپنڈی میں ان کو بے جا تنگ کیا جارہا ہے۔ لیبر ڈے پر بھی 14مزدوروں کو اٹھالیا گیا تھا ۔تین گھنٹوں تک حبس بیجا میں رکھا گیا ۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ سلیمان خیل افراد کے بارے میں اسدحقانی نامی شخص نے تصدیق نامہ لیا جاتا ہے۔ کمیٹی اور نادرانے اس پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا یہ سنگین معاملہ ہے ،ریاست میں یہ کیسا ممکن ہے ۔
سینیٹر ابڑو نے کہا کہ کل کو یہ کسی کلبھوشن کو سند جاری کردے گا تو کیا بنے گا ۔آر پی او راولپنڈی اس معاملے پر کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے۔منظور کاکڑ نے کہا کہ چند اہلکار پوری فورس کو بدنام کرتے ہیں۔پیسے دو پاکستانی۔ورنہ افغانی ۔ بلوچستان خیبر پختونخوا جل رہے ہیں۔ منشیات فروشوں کے دھندے چل رہے۔پنڈی میں ڈاکوؤں منشیات والوں کے خلاف کاروائی میں ناکام معصوم لوگوں کو تنگ کیا جارہا ہے ۔ ایسے قبائل 1901سے شمار ہوتے آئے ان کو مشکور قراردیا جارہا ہے۔ اصل میں یہ پیسے کمانے کا دھندہ بن گیا ہے۔ قانون کے مطابق1984سے ریکارڈ دیکھنا چاہیے ان کوسزائیں دی جائیں جن کا تعلق نادرا پاسپورٹ سے ہے۔ غیرقانون دستاویزات بنائی۔14مزدوروں کو اٹھا لیا گیا۔ ایجنٹ رکھے ہوئے کمائی کا ذریعہ بنالیا۔ پنڈی پولیس کے اے ایس آئی کے نام مزدوروں نے بتائے مگر کوئی کاروائی نہ ہوئی۔شناخت کے نام پر کاروائیاں فی بندہ دولاکھ کمائی ہورہی ہے۔ مزدوروں کو تھانے لے جانے پر تسلی بخش آرپی او جواب نہ دے سکے۔
ارکان نے کہا کہ سندھ میں بھی جنگل کا قانون ہے۔ایف آئی اے کی جیولرز سے بدسلوکی رپورٹ طلب کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے متنبع کیا کہ کسی سرکاری بدمعاش کو تسلیم نہیں کرتا۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پولیس آزادخان نے انمول کیس پر بریفنگ دی ۔اے این ایف نے انمول کو2019 میں مفرور اورسپلائرز قرار دیا تھا مگر کوئی ادارہ گرفتار نہ کرسکا ۔سندھ پولیس نے میڈیا کی تنقید کا خیر مقدم کرتے ہوئے اچھا ہوا یہ کیس نمایاں ہوا،ایس پی سمیت تین برطرفیاں ہوئی ہیں ،ڈی ایس پی سے شادی سے انمول کوکور مل گیا تھا۔ڈرگ ڈیلر لاہور سے کوکین خریدتی۔ رائیڈر سے فروخت کرواتی تھی سترہ سندھ ،پانچ پنجاب ،ایک اے این ایف کا مقدمہ ہے۔ پرانے گھر سے کوکین برآمدپر نیا مقدمہ قائم کیا گیا۔ درپردہ اکاونٹس ہیں ۔ جعلسازی کا مقدمہ درج ہوگا ۔کسی اور کے شناختی کارڈ پر تصویرلگا لی تھی۔انمول کے سولہ اکاونٹس کے انکشافات ہوئے ہیں ۔سندھ پنجاب دونوں صوبوں میں پولیس کی مدد حاصل تھی۔ سب کے خلاف کاروائی ہوگی۔بے نامی اکاونٹس۔منی لانڈرنگ کے مقدمات بھی بنیں گے ۔پولیس نے کسی سیاستدان کا نام نہیں لیا ۔ملزمہ ایسا مقدمہ پر اثرا نداز ہونے یا عدلیہ کو ڈی ٹریک کرنے کے لئے کررہی ہوگی ،بیرون ملک بھی رابطے تھے۔پنجاب پولیس سے مل کر تفتیش کررہے ہیں،نیشنل انٹرنیشنل کینگ ہے۔خریدتا ڈیلرز۔سرکار۔پولیس نیٹ ورک سب نے نقاب کریں گے۔متاثرین کے نام منظر عام پر لانے سے گریز کریں گے ،ان سے تفصیلات ضرورحاصل کریں گے


