دنیا کی معیشت اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں غیر یقینی صورتحال مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کہیں توانائی کے بحران کی بات ہو رہی ہے تو کہیں تجارتی دباؤ بڑھ رہا ہے اور کہیں مہنگائی عام آدمی کی زندگی پر اثر ڈال رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی معیشت مسلسل آگے بڑھتی دکھائی دے تو یقیناً دنیا اس پر توجہ دیتی ہے۔ چین کی معیشت نے 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں ایک بار پھر یہی پیغام دیا ہے کہ مضبوط منصوبہ بندی، جدت اور مسلسل محنت کسی بھی مشکل وقت میں راستہ نکال سکتی ہے۔چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کے مطابق رواں سال کے پہلے چار ماہ میں صنعتی شعبے نے مستحکم رفتار سے ترقی کی۔ بڑے صنعتی اداروں کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ وہ ادارے ہیں جن کی سالانہ آمدنی دو کروڑ یوان یا اس سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف کسی کاغذی کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہیں کہ چینی صنعتیں عالمی دباؤ کے باوجود اپنی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔خاص طور پر مشینری اور آلات بنانے والے شعبے نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ اس شعبے میں 8.7 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی صنعتی ترقی میں اس کا حصہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ رہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین اب صرف روایتی صنعتوں تک محدود نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کی پیداوار کو اپنی ترقی کا مرکز بنا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “میڈ اِن چائنا” کا تصور اب سستی مصنوعات سے نکل کر جدید اور معیاری ٹیکنالوجی کی پہچان بنتا جا رہا ہے۔
چین کی ہائی ٹیک صنعتوں کی رفتار اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ابتدائی چار ماہ میں اس شعبے میں 12.6 فیصد اضافہ ہوا۔ ہوائی جہاز سازی کی صنعت میں 25.7 فیصد جبکہ حیاتیاتی ادویات کے شعبے میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس سمت کی نشاندہی کررہے ہیں جہاں چین مستقبل کی معیشت کو لے جانا چاہتا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت وہی ممالک آگے بڑھ رہے ہیں جو تحقیق، سائنس اور نئی ایجادات میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ چین صنعتی روبوٹس اور ان کے اہم پرزہ جات کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کر رہا ہے۔روبوٹ ریڈیوسرز کی پیداوار 73.3 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ صنعتی روبوٹس کی پیداوار میں 25.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ وہ شعبے ہیں جو آنے والے برسوں میں دنیا کی صنعت کا رخ بدل سکتے ہیں۔ کارخانوں میں خودکار نظام، ذہین مشینیں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پیداوار اب مستقبل نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بنتی جا رہی ہے ۔صرف صنعت ہی نہیں بلکہ خدمات کے شعبے نے بھی مستحکم کارکردگی دکھائی ہے۔ سروسز پروڈکشن انڈیکس میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جدید خدمات کے شعبے نے اس سے بھی تیز رفتار ترقی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کا دائرہ صرف فیکٹریوں تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل خدمات، جدید کاروباری نظام اور عوامی سہولیات بھی مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہیں۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود چین نے توانائی کی فراہمی بڑھائی، عارضی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کی اور عوامی فلاح پر خرچ میں اضافہ کیا، جس سے اندرونی معیشت اور لوگوں کی روزمرہ زندگی کو استحکام ملا۔ یہی وہ پہلو ہے جو کسی بھی معاشی پالیسی کو کامیاب بناتا ہے۔ جب ترقی کے اثرات عام شہری تک پہنچیں تو معیشت صرف نمبروں کا کھیل نہیں رہتی بلکہ لوگوں کے اعتماد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
چین نے اس عرصے میں عالمی تجارت کے دروازے بھی کھلے رکھے۔ آسیان، یورپی یونین اور بیلٹ اینڈ روڈ اینی شی ایٹیو کے ذریعے مختلف ممالک کے ساتھ تجارت میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔ عالمی دباؤ اور بدلتے سیاسی ماحول کے باوجود چین نے اپنے تجارتی روابط کووسعت دے کر یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ معاشی تعاون آج بھی ترقی کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔چین کی حالیہ معاشی کارکردگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید دور میں صرف رفتار کافی نہیں ہوتی بلکہ ترقی کا معیار بھی اہم ہوتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی،تحقیق،صنعتی جدت اور عوامی استحکام کو ساتھ لے کر چلنا ہی پائیدار ترقی کی اصل بنیاد بنتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عالمی چیلنجز کے باوجود چین کی معیشت میں اعتماد، استحکام اور آگے بڑھنے کی خواہش اب بھی واضح طورپردکھائی دیتی ہے۔


