پارلیمینٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن اپنے معاملات کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوکررہ گئی ہے ۔ریلیف کی متمنی بھی ہے واضح طور پر اس کا اظہار بھی نئی کیا جارہا ہے ۔کچھ عارضی ریلیف ملنے پر سڑکوں پر احتجاج کی کال بھی برقرار رکھی جاتی ہے ،اور پھر تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی حالت گاجر اور چھڑی ایک ساتھ والی بن چکی ہے۔اور اس کیفیت سے نکلنے کے لئے اسے کوئی راستہ بھی سجھائی نہیں دے رہا ہے۔

پارلیمان میں احتجاج کی شدت کم ہوچکی ہے۔ حکومت نے بات چیت کی دعوت دے دی،قبولیت کے لئے تجویز سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ پارلیمانی حلقوں میںخیبرپختونخوامیں گورنر وزیراعلی میں ہم آہنگی خوش آئند قرار دیا جارہا ہے، پیش رفت کی توقعات وابستہ کرلی گئی ہیں، دونوں فریقوں میں بدمزگی پیدا نہ ہونے کی مشترکہ ذمہ داری قراردی جارہی ہے ۔جبکہ سینیٹ میں متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بیدخلی کی بازگشت سنائی دی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کا توجہ دلاونوٹس متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردگیا ہے ،

حکومت نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کردی ہے،پی ٹی آئی نے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردیا۔ریلویز گوداموں میں سامان کی خلاف ضابطہ نیلامی کا معاملہ بھی اٹھ گیا ہے، تفصیلات طلب ۔تیسرے روز بھی وقفہ سوالات معطل کردیا گیا ۔ سینیٹ اجلاس سینیٹرشری رحمان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ارکان کا کہنا تھا کہ پانچ سال میں اپنی تنخواہوں میں اضافہ کے علاوہ ہم کچھ نہیں کرسکے ۔سینیٹر عون عباس بپی نے کہا کہ پورا ایوان اس نظام کا سہولت کار بن چکا ہے ،اب اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی تیاری کی جارہی ہے ،لوگ تین وقت کی بجائے دو وقت کی روٹی پر گزاراکررہے ہیں،جنگ سے بھارت بنگلہ دیش اور نیپال میں تو پٹرول مہنگا نہیں ہوا پاکستان میں کیوں ہوا ہے،پاکستان میں چالیس لاکھ ٹن گندم کا شارٹ فال آچکا ہے ،بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں چھ ہزار من آٹا مل رہا ہے ،پنجاب نے آٹا اور گندم دوسرے صوبوں میں جانے پر پابندی عائد کر دی ہے .آٹا بہت جلد سات ہزار من ہوجائے گا ،ایک دن اڈیالہ سے پیغام آہے گا ایوانوں سے اٹھ کر باہر چلے جاﺅ ،یہ ایوان بے وقعت ہوجائے گا

۔وفاقی وزیرقانون اعظم نزیر تارڑنے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چیلنج کرتا ہوں چالیس لاکھ ٹن کندم کا کوئی شارٹ فال نہیں ،ملکی ضروریات کے مطابق گندم ہے کوئی شارٹ فال نہیں،ڈی ریگولیٹ کرنے سے گندم کی قیمت ڈسٹرب ہوئی ،غریب کو آٹا سستا ملنا شروع ہوا ۔قیمتوں میں توازن ضروری ہے ،گندم کی پیداوار اچھی رہی ہے ،اس سال گندم کی قیمت چونیتئس اور پینتیس سو روپے ملی ہے ،صوبائی حکومت اور نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی وزارت کی صورتحال پر نظر ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے باعث تمام ممالک تیل کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں،

وفاقی حکومت نے دو ماہ اپنے اخراجات کم کرکے اضافہ خود ادا کیا، موٹرسائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کو سبسڈی دی جارہی ہے ۔کابینہ کے فیصلہ کے مطابق ساٹھ فیصد سرکارءٹرانسپورٹ گراﺅنڈ کی گئی ہے،کابینہ ارکان تنخواہ نہیں لے رہے ، تیل میں پچاس فیصد کمی کی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا غصہ کوئی اور ہوتا ہے نکلتا کسی اور پر ہے ۔اس موقع پر صدر نشین نے کہاکہ پوزیشن قائمہ کمیٹیوں میں نہ جانے کے فیصلہ پر نظرثانی کرے۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ آپ قائمہ کمیٹیوں میں جانے کو تیار نہیں ، اپوزیشن کو مس کرتے ہیں ، گندم کی نقل و حمل پر پابندی ہٹا دی گئی ہے ۔

پی ٹی آئی رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مہنگائی کے باعث قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہیں ،مہنگائی کا بڑا سبب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے ،عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں لیکن قیمتیں کم نہیں ہوئیں ،پٹرولیم لیوی کا بوجھ عوام سے ہٹایا جائے۔ شیری رحمان نے اصرارکیا کہ پی ٹی آئی ارکان کوقائمہ کمیٹیوں میں جانا چاہیے،آپ اپنی جگہ کیوں خالی چھوڑتے ہیں ۔وزیرقانون نے کہا کہ قیادت پہلی مرتبہ جیل نہیں گئی پہلی مرتبہ ملاقاتیں بند ہوئی ہیں ، معاملات عدالتوں میں ہیں ایگزیکٹو کے پاس مقدمات ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے ، آپ پراسس کا حصہ بنیں اور قائمہ کمیٹیوں میں شریک ہوں ، خیبرپختونخواہ ہمارا حصہ ہے ہمیں اس کا احساس ہے ، خیبرپختونخواہ میں کیا تبدیلی آئی ہے جو دوسرے صوبوں میں نہیں ، ہم وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ہم آپ کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں ۔

سینیٹر فیصل جاوید نے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کمیٹیوں میں واپسی کے لیے بانی پی ٹی آئی سے پوچھنا ہے ، ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروادیں۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما سینیٹر ناصر بٹ نے ریلوے گوداموںسے سامان کی مبینہ طورپر غیرقانونی فروخت کا معاملہ اٹھا دیا اور قائمہ کمیٹیوں کو بھجوانے کا مطالبہ کردیا، پی ٹی آئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ کہتے تھے کہ گرین پاسپورٹ کے مقام میںاضافہ کریں گے ، انہوں نے بلیو پاسپورٹ کا وقار بھی خراب کردیا ، بانی پی ٹی آئی فورسز پر حملہ کروانے پر معافی مانگے ۔

وفاقی وزیر نے ریلویز گوداموں سے سامان کی نیلامی کی تفصیلات چیئرمین سینیٹ کے سپردکرنے کا مطالبہ کردیا بعدازاں یہ معاملہ قائمہ کمیٹی میں زیرتحقیقات آئے گا صدر نشین نے اس بارے میں رولنگ جاری کردی ہے۔سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ اپوزیشن نے کہا جو کچھ کررہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے شعور کی وجہ سے کررہے ہیں ،ہائبرڈ نظام کو لانے والے بانی پی ٹی آئی ہیں،اگر آپ اتنے مقبول ہوتے تو بارہ ضمنی انتخاب ہم کیسے جیتتے ،وزیراعلی کا استحقاق نہیں کہ وہ کسی قیدی سے ملاقات کرے،اگر 190 ملین پاﺅنڈ کے بدلے زمین لینا کرپشن نہیں تو پھر کوئی کرپشن نہیں ،پچاس لاکھ گھر بنے نہ ایک کروڑ نوکریاں دی گئیںتیرہ سال سے حکومت میں ہیں خیبرپختونخواہ میں تین ہسپتال اور یونیورسٹیاں نہیں گنوا سکتے ۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پاکستان جس پوزیشن پر کھڑا ہے ہمیں خود یقین نہیں آتا ،ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے کردار کو صدر ٹرمپ نے سراہا ہے ،کوئی جماعت دوسری جماعت کے اچھے کام کی تعریف نہیں کرتی ،حکومت کو ایوان میں آنے والے تجاویز سے ناراض نہیں ہونا چاہیے ۔اپوزیشن تو بولتی ہی نہیں ، اپوزیشن لیڈر حکومت کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتی ،ایسی اپوزیشن تو قسمت والوں کو ملتی ہے ،بیوروکریسی ہم سے غلط کام کرواتی ہے۔