اسلام آباد(ای پی آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے شیخوپورہ کے اسکول میں 10 سالہ بچی سے زیادتی کے مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا ہے تاہم عدالت نے مجرم کی تین لاکھ روپے جرمانے اور چھ ماہ اضافی قید کی سزا برقرار رکھی ہے.

جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت متاثرہ بچی کو ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی برقرار رکھا گیا ہے.

فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ تعلیمی اداروں اور راستوں میں طالبات کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے اس لئے تمام صوبائی آئی جیز اور آئی جی اسلام آباد تعلیمی اداروں کے باہر پولیس گشت بڑھائیں ، سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہےکہ آئی جیز اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں.

فاضل عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے کی شکایات پر پولیس بغیر کسی تاخیر کے فوری کاروائی کرے ، عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سندھ میڈیکل لیگل ایکٹ 2023 کی طرز پر جدید میڈیکل لیگل سروس قائم کرنے کی سفارش کی ہے.

فیصلہ کے مطابق شیخوپورہ کے ہاؤسنگ کالونی اسکول میں خاک روب (سویپر) نے 10 سالہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا میڈیکل رپورٹ میں بچی کے جسم پر زخموں کے نشانات اور زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی،عدالت نے لکھا ہے کہ فارنزک لیبارٹری کی رپورٹ میں سیمن برآمد نہ ہونا مقدمے کو ختم نہیں کرتا اورجرم کے تین دن بعد ایف آئی آر کے اندراج کی تاخیر اس کیس میں شک کا فائدہ نہیں بنتی.

عدالت نے قراردیا ہے کہ واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ نے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی اور بچی کو اسکول کے اندر ہی ڈرپ لگائی، اسکول انتظامیہ کی خاموشی اور تاخیر کا نقصان مظلوم بچی اور اس کی بیوہ ماں کو نہیں پہنچایا جا سکتا .عدالت نے لکھا ہے کہ مجرم کا اسکول گیٹ پر لڑائی کا دعویٰ اور جھوٹا پھنسانے کا الزام ثابت نہ ہو سکا.