آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی اقتصادی پیداوار سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ جدت، ماحول، ثقافت اور عوامی خوشحالی کو کس حد تک اپنی ترقی کا حصہ بناتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں چین نے انہی شعبوں میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے اپنی معیشت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا ہے، جہاں تیز رفتار ترقی کے ساتھ معیار اور پائیداری پر بھی یکساں توجہ دی جا رہی ہے۔

سال 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد چین نے اقتصادی حکمرانی کے نظام میں مسلسل اصلاحات متعارف کرائیں۔ ان اصلاحات نے معیشت کو زیادہ مضبوط اور متوازن بنیاد فراہم کی۔ ان ہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ 2025 میں چین کی مجموعی اقتصادی پیداوار 140 کھرب یوآن تک پہنچ گئی، جبکہ عالمی اقتصادی ترقی میں اس کا حصہ تقریباً 30 فیصد برقرار رہا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی معیشت میں چین کا کردار مسلسل اہم ہوتا جا رہا ہے۔اقتصادی ترقی کے ساتھ سامنے آنے والے چیلنجز، جیسے علاقائی عدم توازن، ماحولیاتی دباؤ اور شہری و دیہی آمدنی کے فرق کو کم کرنے کے لیے صدر شی جن پھنگ نے جدت، ہم آہنگی، سبز ترقی، کھلے پن اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی نئے ترقیاتی نظریے کو فروغ دیا۔ اسی سوچ نے چین کی معیشت کو صرف وسعت دینے کے بجائے اسے زیادہ معیاری، پائیدار اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جدید ٹیکنالوجی بھی اس تبدیلی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔مصنوعی ذہانت، بایومیڈیسن اور دیگر ابھرتی ہوئی صنعتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، جبکہ بڑے قومی منصوبے، مختلف علاقوں کے درمیان بہتر رابطے اور آزاد تجارتی زونز نئی سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، آزاد تجارتی معاہدوں اور بیرونی تعاون کے ذریعے چین عالمی اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔اقتصادی میدان کے ساتھ ساتھ ثقافتی صنعت بھی چین کی ترقی کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ قومی ادارہ برائے شماریات کے مطابق 2025 میں ثقافتی اور متعلقہ صنعتوں کی سالانہ آمدنی پہلی مرتبہ 20.8 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.8 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں ان صنعتوں کا مجموعی منافع 1.9 کھرب یوآن تک پہنچ گیا، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ثقافتی خدمات اس ترقی کا بنیادی محرک بن کر سامنے آئی ہیں۔ مجموعی آمدنی میں ان کا حصہ 59.1 فیصد رہا، جبکہ ثقافتی صنعت کی مجموعی ترقی میں ان کا حصہ 82.7 فیصد تک پہنچ گیا۔

دوسری جانب انٹرنیٹ اشتہارات، ملٹی میڈیا گیمز، اینیمیشن، ڈیجیٹل اشاعت اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں نے بھی تیز رفتار ترقی کی۔ تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری میں 12.1 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چین ثقافت اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ہانگ کانگ کی مادرِ وطن میں واپسی کے بعد اقتصادی تعاون میں بھی مسلسل وسعت آئی ہے۔ شین ژن کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 1997 میں مین لینڈ چین اور ہانگ کانگ کے درمیان تجارتی حجم 420.87 ارب یوآن تھا، جو 2025 تک بڑھ کر 2.6 کھرب یوآن تک پہنچ گیا۔ اس عرصے میں تجارت میں اوسط سالانہ 6.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دونوں جانب بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ رجحان 2026 میں بھی برقرار ہے۔ سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مین لینڈ چین اور ہانگ کانگ کے درمیان درآمدات اور برآمدات کا مجموعی حجم 1.4 کھرب یوآن رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 48.6 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں معیشتیں ایک دوسرے سے مزید مضبوط انداز میں جڑ رہی ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ ایک دہائی میں چین نے معیشت، ثقافت، ٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون کو ایک جامع ترقیاتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا ہے۔ اعلیٰ معیار کی ترقی، اختراع، ثقافتی فروغ اور ہانگ کانگ کے ساتھ مضبوط ہوتے اقتصادی روابط اس بات کی علامت ہیں کہ چین اپنی ترقی کو صرف اعداد و شمار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے طویل مدتی استحکام، باہمی تعاون اور پائیدار خوشحالی سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔