اسلام آباد(ای پی آئی) چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نےکہا ہےکہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو مذہب، عقیدے یا پس منظر سے بالاتر ہو کر مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور انصاف تک یکساں رسائی کی ضمانت دیتا ہے اور وفاقی آئینی عدالت آئینِ پاکستان کی بالادستی اور اس میں دیے گئے بنیادی حقوق کے تحفظ اور نفاذ کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔
ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے آج بین الاقوامی یومِ انصاف کے موقع پر پاکستان کی مذہبی اقلیتی برادریوں کے ایک ممتاز وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر عدالت نے آئینِ پاکستان میں درج مساوات، شمولیت، انصاف اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
مسٹر سیموئیل پیارا کی سربراہی میں 13 رکنی وفد میں مسیحی، سکھ، ہندو، سنتن دھرم، بہائی اور کیلاش برادریوں کے نمائندگان شامل تھے۔ یہ دورہ امپلیمنٹیشن مائنارٹی رائٹس فورم کی درخواست پر منعقد کیا گیا۔
وفد نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس امین الدین خان سے کمیٹی روم میں ملاقات کی۔ اس موقع پر جسٹس باقر علی نجفی اور رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان بھی موجود تھے۔ معزز چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو مذہب، عقیدے یا پس منظر سے بالاتر ہو کر مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور انصاف تک یکساں رسائی کی ضمانت دیتا ہے۔
ملاقات کے دوران آئینی اداروں کے کردار، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور قانون کی حکمرانی پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق تفصیلی اور مثبت تبادلۂ خیال ہوا۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی آئینی عدالت آئینِ پاکستان کی بالادستی اور اس میں دیے گئے بنیادی حقوق کے تحفظ اور نفاذ کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔
وفد کے اراکین نے عدالت کی قیادت سے براہِ راست ملاقات کے موقع کو سراہتے ہوئے عدلیہ پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور آئینی حقوق کے تحفظ میں عدلیہ کے کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی یومِ انصاف کی مناسبت سے ایسے تعمیری مکالمے کو قومی یکجہتی، باہمی احترام اور شمولیت کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے اختتام پر وفد کے اراکین کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ بعد ازاں یادگار گروپ فوٹو بنائی گئی، جو آئینی اقدار، انصاف، رواداری، اتحاد اور قومی ہم آہنگی سے مشترکہ وابستگی کی علامت بنی۔
ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مؤثر رابطے اور بامقصد مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ آئینی شعور کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور ملک بھر میں انصاف، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو فروغ دیا جا سکے۔


