اسلام آباد(رپورٹ محمد اکرم عابد)اپوزیشن جماعتوں میں دہشت گردی کے معاملات بڑھتے عوامی عدم تحفظ پر کل جماعتی کانفرنس (آل پارٹیزکانفرنس)طلب کرنے پر مشاورت کے بعدمولانا کے بیان کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کردیا گیا ہے۔پارلیمانی جماعتوں نے اپنے ا رکان کو کسی بھی رہنما سے متعلق مخالفانہ بیان دینے سے روک دیا ۔
اے پی سی کے انعقاد تک متنازعہ بیانات سے گریز کیا جائے گا ۔اے پی سی کا مقصدقومی معاملات پر اپوزیش میں سازگارسیاسی فضا کا فروغ بتایا گیا ۔ سیاسی قوتوں میں حالات کے تناظر میں رابطوں پر اتفاق کیا گیا ہے ۔
اے پی سی کے حوالے سے جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے اس ادارے کے نمائندے کے استفسار پر کہا کہ انھیں بھی اطلاع ملی ہے کہ اے پی سی پر مشاورت ہورہی ہے ۔کسی بیان کے تناظر میں کسی کو شہدا کارڈاستعما ل نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ مولانا کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کرلیا جارہا ہے ۔ایسے لوگوں سے بیانات دلوائے جارہے ہیں جن کی اپنی حثیت سوالیہ نشان ہے ۔ ان کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔جے یو آئی ہمیشہ واضح سمت کے ساتھ آگے بڑھی ہے ۔ہم نے کسی معاملے میں معافی نہیں مانگنی ،معافی وہ مانگیں جو معاملات کو آلودہ کررہے ہیں


