اسلام آباد(محمداکرم عابد)نجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیسز۔بے تحاشا فرمائشی وصولیوں پر سینیٹ صحت کمیٹی نے اظہار تشویش کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ طب کی مہنگی تعلیم کی وجہ سے بچے باہر جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر مصطفے کمال نے ا عتراف کیا ہے کہ نجی طبی کالجز کی کم ازکم فیس سالانہ 8لاکھ روپے بنتی ہے۔ ارکان نے سوال اٹھادیا کہ وزیرصاحب فیس کون کم کروائے گا؟

حکام کا کہنا ہے کہ چین سے میڈیکل میں پڑھ کر آنے والے پاکستان میں فیل ہو جاتے ہیں۔ سینٹ قائمہ کمیٹی صحت کو بتایا گیا ہے کہ باہر کے مستند تعلیمی اداروں کی فہرست جاری کریں گے اس حوالے سے سرخ اور سبز کیٹیگری بنارہے ہیں ۔میڈیکل کے۔ بی ڈی ایس کو ایم بی بی سی کی طرح پانچ سال کردیا گیا ہے۔

اجلاس سینیٹر انوشہ رحمان کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاوس میںمنعقد ہوا۔ عوامی سماعت کے دوارن طلبہ طالبات والدین نے میڈیکل کی پاکستان میں مہنگی ترین تعلیم پر مشکلات سے آگاہ کیا بلوچستان کے طلبہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی ماحول بھی نہیں ہے ،بھاری فیس بھی نہیں ہیں ایم ڈی کیٹ کے لئے کیسے تیاری کریں ۔اس لئے بلوچستان میں طلبہ مزید تعلیم سے محروم ہورہے ہیں ۔والدین کا کہنا تھا کہ نجی میڈیکل کالجز مکمل سالانہ فیس کی ادائیگی پر قانونی ریلیف نہیں مل رہا ہے۔

وزیر نے کہا کہ میرا کوئی میڈیکل کالج نہیں ہے۔امتحانی نظام بہتر بنانا چاہتا ہو ں۔بورڈز کی خرابیوں کی وجہ سے ایم ڈی کیٹ شروع ہوا۔

مصطفے کمال نے حکام کو کہا کہ پی ایم ڈی سی ثابت کرے ایف ایس سی تعلیم کے مطابق پیپرز بن رہے ہیں۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جواب طلب کرلیا اور انتباہ کیا کہ ورنہ اس نظام کو تبدیل کرو ایف ایس سی نتائج آنے پر چند دنوں میں ایم ڈی کیٹ شروع ہوجائے گا۔نصاب سے ہم آہنگ امتحان نہیں تو بچوں سے زیادتی ہے۔ انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ چالیس ہزار ڈاکٹرز ملک سے باہر جارہے ہیں بھاری اخراجات نے میڈیکل تعلیم کے کالجز خالی کردیے ۔ سیٹ خالی پڑی ہیں ۔

نجی کالجز کے ماہرین نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ نے تعلیمی نظام کمزور کردیا ،وزیرنے کہا کہ اگر امتحانات نہ لیں تو بورڈز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں،بورڈزکے حالات سے سب آگاہ ہیں۔ایم ڈی کیٹ حکام کمیٹی میں

امتحانات کے پیپرز بارے سینٹ صحت کمیٹی کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔24گھنٹوں میں ایم ڈی کیٹ کمیٹی کا ریکارڈ طلب کرلیا گیا۔ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔بچے اکیڈمیوں میں نہ جائیں حکام کی سینٹ کمیٹی کو بریفننگ میں مزید کہا کہ ایم ڈی کیٹ کے معاملے پر اکیڈمی مافیاز سرگرم ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے سینٹ کمیٹی میں بیان دیا کہ اکیڈمی تین تین لاکھ روپے لے رہی ہیں اس لئے امتحان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی۔بچے اکیڈمی نہ جائیں۔سوالات کے پیپرز بن رہے ہیں۔

ارکان کاکہنا تھا کہ میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے ٹیوشن اکیڈمی کی چاندی ہورہی ہے ۔لاکھوں روپے بٹورے جارہے ہیں۔