اسلام آباد(ای پی آئی) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پردو اینکرزروف کلاسرا اور معیدپیرزادہ کے درمیان چپقلش جاری ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کو فوجی جرنیلوں یا اسٹیبلشمنٹ کی خدمت اور لمبے نوٹ کمانے کے طعنے دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ روف کلاسرا نے تو معید پیرزادہ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا کہ اس نے کس طرح ماضی میں فوجی جرنیلوں کی مسلسل چاپ لوسی کی۔۔
دونوں کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب روف کلاسرا نے بھارتی پولیس کے طالبہ پر تشدد کی ایک وڈیو ایکس پر پوسٹ کرکرے لکھا کہ بھارت کو ایک مستحکم جمہوریت اور معاشی طاقت بنانے کے لیے ایک پولیس اہلکار نےطالبہ کو پوری قوت سے تھپڑ ماردیا۔۔۔
A cop slapping female student with full power to make India a robust democracy and economic power..
I stand corrected.
👇 https://t.co/A2a15vNotT pic.twitter.com/COdwjbirRZ— Rauf Klasra (@KlasraRauf) July 21, 2026
اس ٹویٹ پر معید پیرزادہ نے لکھا کہ
کلاسرا صاحب آپ سے فوجی جرنیلوں کی خدمت میں اتنی بیکار قسم کی منافقت کی توقع نہیں تھی! آپ سے زیادہ intelligent comment کی توقع ہوتی ہے! یہاں آپ نے ھندوستان کا ایک معمولی واقعہ اٹھا کے پاکستان سے moral equivalence دکھانے کی کوشش کی ہے! فلم ستلج دیکھئے، ھندوستانی جمہوریت بہت defective ہے مگر پنجاب کے ظلم کے تاریک دور سے آگے نکل آئی ہے! جو دہلی میں ہو رہا ہے، یہ ہر جمہوریت میں ممکن ہے! اس جھگڑے سے صرف ان کا سسٹم بہتر ہو کر نکلے گا! ہمیں بلوچستان، فاٹا اور کشمیر کا سوچنے کی ضرورت ہے! جو عدالتوں اور سپریم کورٹ کا ہوا اسکا سوچنے کی ضرورت ہے! اڈیالہ جیل کے باہر ایک ملاقات کو روکنے کا جو جبر ہے، انسانی حقوق کے وکیلوں کو بغیر مقدموں کو جیلوں میں ڈالنے کا جو ظلم ہے، صحافیوں کو قتل کرنے اور دھشت گرد بنا کے عمر قید سنانے کا جبر ہے! آپ کیا لوگوں کو بےوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں!
کلاسرا صاحب آپ سے فوجی جرنیلوں کی خدمت میں اتنی بیکار قسم کی منافقت کی توقع نہیں تھی! آپ سے زیادہ intelligent comment کی توقع ہوتی ہے! یہاں آپ نے ھندوستان کا ایک معمولی واقع اٹھا کے پاکستان سے moral equivalence دکھانے کی کوشش کی ہے! فلم ستلج دیکھئے، ھندوستانی جمہوریت بہت… https://t.co/PtJqDxU240
— Moeed Pirzada (@MoeedNj) July 21, 2026
معید پیرزادہ کو جواب دیتے ہوئے روف کلاسرا کہتے ہیں
میرے دوست میں عام سا بندہ اور رپورٹر ہوں پتہ نہیں آپ نے مجھ سے ایسی اپنی طرح احمقانہ توقعات کیوں باندھ رکھی ہیں کہ ہر چند دن کے بعد آپ میرے کسی ٹوئٹ سے ہرٹ ہوجاتے ہیں جیسے کوئی عاشق اپنی معشوق کی کسی بات پر ہو جاتا ہے۔
آپ کو علم ہے میں کبھی انقلابی نہیں رہا نہ میرے دماغ کو خناس چڑھا ہے کہ میری مرضی سے فیصلہ ہوگا کون آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی یا وزیراعظم ہوگا۔
ہم بقول ہمارے محترم نصرت جاوید صاحب دوٹکے کے رپورٹر ہیں جو چھوٹی موٹی صحافت کرتے رہتے ہیں۔ ہم کہاں آپ جیسے مہان کلاکار سے میچ کرسکتے ہیں۔ اپ بہت بڑے ہیں ہمیں اگنور مارا کریں۔ عاشقوں کی طرح behave نہ کیا کریں۔
باقی میرے دوست اگر آپ جیسے سابقہ ملازم جی ایچ کیو کو بہت زور سے انقلاب آیا ہوا ہے تو آپ اپنے انقلاب کے لیے خود کوشش کریں۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ جس دن مجھے انقلاب آئے گا میں آپ کو زحمت نہیں دوں گا جیسے آپ اور آپ جیسے دیگر جی ایچ کیو اور آب پارہ کے سابقہ ملازمین دوسروں کو دیتے رہتے ہیں۔
ویسے حیرانی مجھے بھی ہے کہ ساری عمر آپ انہی فوجیوں کی چھتری تلے پلتے رہے، انہی کا شہد ملا دودھ پیتے رہے، انہی فوجیوں سے لاکھوں کروڑں روپوں کے فائدے لیے، ٹی وی چینلز پر نوکریاں انہی فوجیوں نے آپ کو دلوائیں، آپ کے تھرڈ کلاس میگزین کو کروڑوں کا بزنس ملا جس کی آپ سب کو فری کاپیاں بھیجتے تھے، اس میگزین کا کام ہی فوجی اسٹبلشمنٹ کے پراپگنڈہ کو انگریزی کا رنگ دے کر پروموٹ کر کے سفارت خانوں میں پوسٹ کرنا تھا اور اس کے عوض آپ نے لمبے نوٹ کمائے لیکن آج مجھے طعنے دینے آگئے ہیں کہ تھپڑ والی ویڈیو کیوں لگائی۔ واہ۔
کسی دن انہی فوجی جرنیلوں کی مسلسل چاپ لوسی سے بھرے اپنے پرانے ٹی وی شوز ہی دوبارہ سن لیں جو آپ ہمیں ریجنل سیکورٹی والے ڈرامے روز سناتے تھے تو شاید شرم کے مارے کبھی گھر سے نہ نکلیں آپ۔
جتنے آپ بہادر صحافی تھے وہ میں ذاتی طور پر خوب جانتا ہوں اور 92 چینلز پر پروگرام سے پہلے جو رٹے لگا لگا کر انٹرو پڑھتے تھے اور پورا دفتر سنتا اور ہنستا تھا اس کا بھی گواہ ہوں۔ آپ کی تو چینل کے ڈائریکٹر نیوز کے آگے گھگی بندھ جاتی تھی چینل مالک تو دور کی بات ہے کہ میں آپ کی کونسلنگ کرتا تھا تو آپ کی گھگی ختم ہوتی تھی۔
اب آج کل آپ ہمارے نجات دہندہ ہیں۔ واہ۔ کتنا برا وقت ہم پر آیا ہوا ہے۔
آپ کا وہی حال ہے ایک بندے کی پشت پر درخت اگ آیا۔ کسی نے اسے بتایا تو ہنس کر کہا کوئی بات نہیں اگلے سال اس کی چھائوں میں سوئوں گا۔
کم از کم آپ تو ہمیں فوجیوں کا ٹاوٹ ہونے کا طعنہ نہ دیں اے میرے بہت ہی بہادر اور باضمیر انسان۔ 🙏
میرے دوست میں عام سا بندہ اور رپورٹر ہوں پتہ نہیں آپ نے مجھ سے ایسی اپنی طرح احمقانہ توقعات کیوں باندھ رکھی ہیں کہ ہر چند دن کے بعد آپ میرے کسی ٹوئٹ سے ہرٹ ہوجاتے ہیں جیسے کوئی عاشق اپنی معشوق کی کسی بات پر ہو جاتا ہے۔
آپ کو علم ہے میں کبھی انقلابی نہیں رہا نہ میرے دماغ کو خناس… https://t.co/VERCQxFciR— Rauf Klasra (@KlasraRauf) July 21, 2026


