اسلام آباد(محمداکرم عابد)موجودہ دورحکومت میں پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں وزارت توانائی کے بجلی پیدوارکے منصوبوں ،بجلی فراہم کرنے کمپنیوں میں اربوں روپے کی باضابطگیوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ طویل عرصہ سے تحقیقات رکی ہوئی ہیں جبکہ جام شوروپاورپلانٹ کا دس ارب روپے کوئلہ فراہمی کا ٹھیکہ غیر قانونی طورپر سنگل بڈ پر دے دیا گیا۔
پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس چیئرپرسن شاہدہ اخترعلی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ،فیصل آباد ،گوجرانوالہ کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں جلد نیلام کردی جائیں گی تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔سکھر حیدرآباد کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی نیلام ہونگی جن کا روڈ روڈ میپ تیار ہوچکا ہے۔
کمیٹی اجلاس کے دوران بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی لوٹ مار کی غیر قانونی ریڈنگ سے متعلق اہم ترین انکشافات ہوئے ہیں کہ دولاکھ 78ہزار سے زائد بجلی صارفین سے 47ارب روپے غلط ریڈنگ کے ذریعے جبری وصولیاں ہوئیں۔ جبکہ صارفین کی بجلی کی ناجائز ریڈنگ میں میٹر اتارے جارہے۔افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
کمیٹی کے ارکان نے مطالبہ کیاہے کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں نے اربوں روپے کی ناجائز ریڈنگ کے زمہ دارسی ای اوز ہیں انھیں برطرف کیا جائے۔ شازیہ مری ،حسین طارق،افنان اللہ خان،سلیم مانڈویدیگر نے کہا کہ صارفین دربدر ہیں۔وزارت بے حس ہے۔اسلام آباد میں15یونٹ پر15ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا۔لوگ خودکشیاں کررہے ہیں.
آڈٹ حکام نے کہا کہ کمپنیوں کے اہلکاروں کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں ۔ حیران کن طورپر40 ہزار آڈٹ اعتراضات زیرالتوا۔ بلوچستان بالخصوص قلات ڈیرہ بگٹی میں بجلی منصوبوں میں وزارت منصوبہ بندی رکاوٹ ہے۔
حکام نے اعتراف کیا کہ بلوچستان کے کروڑوں روپے کے فنڈز لیپس ہورہے ہیں.کیسکو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ۔وزارت توانائی غیر سنجیدہ ہے۔ نااہلی کا نوٹس لیا جائے۔ چیئرپرسن نے کہا کہ وزارتیں ایک پیج پر نہ ہیں ۔سیکرٹری (پرنسپل اکاونٹنگ افسر)کی غیر حاضری پر پی اے سی اجلاس منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کرتے وزیراعظم کو خط لکھ دیا گیا۔ کمیٹی نے وزارتوں کے طرز عمل پر اظہار ناپسندیدگی کرتے ڈی اے سیز کی عدم فعالیت پرتمام وزارتوں سے جواب طلب کرلیا ہے۔
رکن کمیٹی حسین طارق نے نشاندھی کی کہ ایک دن میں میڈیا رپورٹ کے مطابق 41ہزار بجلی یونٹس کی غلط ریڈنگ کی گئی۔ لیسکو زیادہ زمہ دارہے۔ سیکرٹری نے کہا کہ کوئی بجلی کمپنی منافع نہیں کما رہی ہے ۔آئسیکو گیپکو فیسکو پہلے مرحلے میں نیلام ہو جائیں گی۔حکومت بجلی بیچنے کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔فیصل اباد۔گوجرانوالہ اسلام آباد بجلی کمپنیاں مارچ 2027تک نیلامی ہو جائے گی ۔سکھر حیدرآباد کی کمپنیاں نجی کمپنیوں کے حوالے کردیں گے۔فناشل ایڈوائزر رکھ لیا جائے گا یہ بھی آئندہ سال کی پہلی سہہ ماہی میں نجی کمپنی کو چلی جائیں گی۔
ارکان نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ سے ثابت ہو گیا ۔صارفین نہیں بجلی کمپنیاں چورنکلی ہیں کسی کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی ،ارکان پی اے سی نے موثر کاروائی نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا ہے ۔لیسکو میں 35افسران کے خلاف کاروائی ہونی ہے حکام نے دعوے کئے ہیں ۔بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے 2لاکھ 78ہزار سے زائد بجلی صارفین سے 47ارب روپے کی غلط ریڈنگ کرتے ہوئے90لاکھ اضافی یونٹس ڈال دیئے گئے۔
پی اے سی میں رپورٹ پیش ہونے پر کمیٹی نے اعلی سطح پر ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی رپورٹ طلب کرلی گئی. کمیٹی کو بتایا گیاہے کہ آڈٹ پیرا نمٹانے سے انکارکردیا گیا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق جینکو ون(جامشوروپاورپلانٹ) میں میں دس ارب روپے کی 2 لاکھ میٹرک ٹن کوئلے کی خریداری کے ٹھیکے میں قانون اور پیپرا رولز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سنگل بڈ پر اضافی رقم ادائیگی کردی گئی چھ ماہ سے تحقیقات رکی ہوئی ہیں ۔ٹھیکہ2023میں جاری کیا گیا تھا بے ضابطگی ۔660 میگاواٹ جامشورو پاور پلانٹ کیلئے کوئلہ خریدا گیا تھا38ہزارفی ٹن کا کوئلہ50ہزارفی ٹن خریداگیا،
آڈیٹر جنرل نے کہا کہ پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئلہ خریدا گیا، مالیاتی جائزہ کمیٹی نے کمپنی کی بولی کو زیادہ قرار دیا تھا۔جائزہ کمیٹی نے زیادہ بولی کو مسترد کرنے کی سفارش کی تھی، ۔بورڈ نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سنگل بڈ پیشکش قبول کر کے کوئلے کی خریداری کی منظوری دے دی۔کوئلہ نیپرا کی منظور شدہ قیمت سے 12 ہزار 80 روپے فی ٹن مہنگا خریدا گیا، مہنگی خریداری سے قومی خزانے پر 1.4 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا جبکہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی سے 10.14 ارب کی مس پروکیورمنٹ ہوئی، ۔
ارکان نے کہا کہ پروکیورمنٹ کمیٹی نے بولی کو مسترد کرنے کا کہا تھا سب ملے ہوئے تھے مسابقت نہ ہونے دی گئی کارٹیلز بنے ہوئے ہیں ۔، ممبر کمیٹی سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ہمیں بھی معلوم ہے کہ سنگل بڈر والی گیم ہے کیا۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی نے معاملہ دوبارہ ڈی اے سی کو بھجوا تے ہوئے تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔منافع کمپنیوں کی پہلے مرحلے میں نجکاری کے فیصلہ پر اظہارتشویش کرتے ہوئے وزیراعظم کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ری آڈٹ کے معاملات سامنے ،محکمانہ آڈٹ کمیٹیز نہ ہونے پر 2023۔2024میں وزرات توانائی کے سنگین بے ضابطگیوں کے آڈٹ پیراز موخر کردیئے گئے مزکورہ تحقیقات کے بعد کمیٹی فیصلہ کرے گی ،کمیٹی نے سی ای اوحسیکوکو سانگھڑمیں کھلی کچہری کی ہدایت کی ہے ۔


