اسلام آباد(محمداکرم عابد)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ چیئرمین نیپرا کی32لاکھ روپے تنخواہ ومراعات کی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی ،
نیپرا نے وزیراعظم آفس کے فرانزک آڈٹ کروانے کے احکامات بھی پس پشت ڈال دیئے ہیں۔کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ نیپرا نے فرانزک آڈٹ نہ کروایا تو اس کے خلاف تمام ارکان مشترکہ طور پر تحریک استحقاق پیش کریں گے۔ کیس پارلیمانی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے ۔
پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی سینٹ کمیٹی میں ابتدائی بریفنگ۔اوگرا حکام غائب۔نوٹس جاری۔ اجلاس چیئرمین سینیٹر رانا محمودالحسن کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔بھاری تنخواہوں کے انکشاف پر سینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ میں ارکان نے نیپرا افسران کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر لانے کا مطالبہ کردیا۔
وزیراعظم کے پرنسپل وسیکرٹری کابینہ نے کہا کہ سب افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ویب سائٹ پر جاری ہونگی۔کام شروع کردیا گیا ہے ۔ سب افسران قانون کے پابند ہیں۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن نہیں لی۔خود اصلاحات کی تحت فیصلہ کیا اور ہم نے انتظامی اصلاحات کی آئی ایم ایف کو تجاویز پیش کیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ آڈیٹر جنرل کو وزیراعظم نے نیپرا کے آڈٹ کی ہدایت کی تھی تاہم ادارہ لیت ولال سے کام لے رہا ہے۔نیپرا کے اس راہ فرار کا سینیٹ کابینہ کمیٹی میں انکشاف ہواہے کہ نیپرا نے وزیراعظم کے احکامات نظر کردیا۔
سینیٹر عبدالقادرخانزادہ نے الزام عائد کیا کہ آئی پی پیز نے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کردی ہیں ان کا بھی آڈٹ کروایا جائے ۔ملک میں 108بجلی بنانے کے کارخانے ہیں مگر نیپرا کے معائنہ کار زمہ دار سینئر ایڈوائزر ان کی نگرانی اور معائنہ سے متعلق تسلی بخش جواب نہ دے سکے جو ڈیٹا آئی پی پیز سے آتا ہے ادائیگیاں جاری ہیں ۔بعض ارکان نے کہا وزیراعظم آفس بھی اس طرح اپنی تنخواہیں بڑھا لے جس پر پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اپنی تنخواہوں میں اپنی کمیٹی کے ذریعے اضافہ کر لیتے ہیں۔ہم سرکاری ملازم ہیں ہم خود سے اضافہ نہیں کرسکتے۔
ارکان نے کہا کہ بجلی فراہمی پر چھ چھ قصائی مسلط ہیں مقررہے۔نیپرا کے خلاف تحریک استحقاق پیش کریں گے۔ورلڈ مافیا کا آئی پی پیز گورکھ دھندہ ایمل ولی ۔کابینہ کو نیپرا کی بھاری تنخواہوں کی تین بار سمریاں ارسال کی گئیں۔سینٹ کمیٹی نے ریکارڈ طلب کرلیا۔
سیکرٹری نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر نیپرا تنخواہوں میں اضافے کا اختیار نہیں رکھتا۔کابینہ ہی تنخواہ کا تعین کرے گی ۔ منظوری کے بغیر پرانی تنخواہ تصور ہونگی۔اڈٹ پیرا بن سکتا ہے۔ ایکزیکٹیو ممبر نیپرا نے کہا کہ ماہانہ چیئرمین نیپرا 32لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے۔ دسمبر 2018 میں چیئرمین نیپرا کی 11لاکھ روپے تنخواہ تھی۔۔
پرنسپل آفیسر وزیراعظم نے کہا کہ کابینہ سے 32لاکھ روپے کی تنخواہ کی منظوری نہیں لی گئی۔سینیٹر ایمل ولی خان نے نیپرا بند کرنے کا مطالبہ کرتے پوئے بھاری مراعات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ گھر کرایہ کی مد میں ہر نیپرا افسر چار لاکھ روپے لے رہا ہے۔آئی پی پیز پانی سے بجلی پیداوار میں رکاوٹ ہے،نپیرا حکام کا دعوی تھا کہ تمام آئی پی پیز بجلی بنا رہے ہیں
سینیٹر افنان اللہ کے مطابق انھیںآڈیٹر جنرل نے بتایا ہے کہ نیپرا آڈٹ کے لئے تعاون نہیں کررہا ہے ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ 1800ارب روپے مفت میں کیپیسٹی چارجرز دئے جارہے ہیں۔ آئی پی پیز کی بجلی فراہمی کی ٹرانسمشن لائن ہی نہیں تھیں ۔ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ 22، 22گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ۔نیپرا کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کردیا گیا۔۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یہ اتنا طاقتور ہے کہ وزیراعظم بھی نیپرا کا آڈٹ نہیں کروا سکیں گے۔ایڈیٹر جنرل سے نیپرا کے خصوصی آڈٹ کا کہا ہے پرنسپل آفیسر وزیراعظم نے سینٹ قائمہ کمیٹی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کہا ۔
ارکان نے نیپرا کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین نیپرا کی تقرری کے معاملے پر سینٹ کمیٹی کابینہ میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نیپرانے آڈٹ نہ کروایا تو اس کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی جائے گی ۔ اگلے مرحلے میں تمام آئی پی پیز اور ڈسکوز کا آڈٹ کروایا جائے گا ۔ارکان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز سے معاہدے ختم نہیں ہوسکتے۔
رانا محمودالحسن نے کہا کہ آئی پی پیز کے حوالے سے بڑی بڑی شخصیات بمشول میاں منشا اور سابق وزیراعظم کے نام لیئے جارہے ہیں ۔قائمہ کمیٹی نے تمام آئی پی پیز کی بجلی کی پیداور،ٹیرف معاہدوں اب تک ادائیگیوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ نیپراکویہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی پی پیز کے جومعاہدے ختم کئے گئے اس کے طریقہ کار پر بھی بریفنگ دی جائے


