اسلام آباد(پارلیمانی ڈائری محمداکرم عابد) حکومتی صفوں میں سیاسی کشیدگی پر قومی اسمبلی کے اجلاس کا شیڈول 5 ویں بارتبدیل کردیا گیا ہے. اس ضمن میں پی ٹی آئی سے اس لئے مشاورت کی گئی ہے وہ ریکوزیشن نہ جمع کروادے،

پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی میں ممکنہ سخت ترین ردعمل کی فکر سے حکومتی حلقے خود کو آئی سی یو میں تصور کررہے ہیں ایسے میں پیپلزپارٹی سے بیچ بچاوکے لئے اپوزیشن سے سہولت کار دستیاب ہوگئے ہیں ۔جولائی میں طے کیا تھا کہ دواگست کو قومی اسمبلی اجلاس ہوگا ۔سات اگست کی حتمی تاریخ کا اعلان ہوا اور شیڈول بن گیا اس دوران آزادکشمیر کے انتخابات کے نتیجہ میں پیپلزپارٹی کی توپوں کا رخ حکمران جماعت کی جانب ہونے پر لیگی حکومت کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں کہ ارکان کا قومی اسمبلی میں سخت ترین ردعمل ہوسکتا ہے طے شدہ اجلاس طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،گیارہ کی تاریخ کا عندیہ دیا گیا وہ راس آتے دکھائی نہ دی ۔

17اگست کی تاریخ کی مشاورت ہوئی اس پر بھی بس نہ ہوئی ،اب اطلاعات ہیں کہ سیاسی کشیدگی سخت ترین ہوتی جارہی ہے حکومتوں صفوں سے احتجاج کی گونج پر حکومتی ساکھ کو دھچکا لگ سکتا ہے سو حالات میں بہتری کی امید سے پانچویں بار قومی اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ میں ردوبدل کے عندیئے ہیں اجلاس اب 31اگست کو طلب کرنے کے مشورے ہوئے ہیں ،اندر کی خبر یہ ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف سہولت کار بن گئی ہے ۔حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سےاس لئے رابطہ کیا گیا کہ وہاں سے ریکوزیشن آنے پر لینے کے دینے نہ پڑجائیں َ اس لئے پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما سے قومی اسمبلی کے مجوزہ شیڈول میں ردوبدل کے لئے مشاورت کی گئی ہے ۔