اسلام آباد(ای پیآئی) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا ہے جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کی اور کمیٹی کی ہدایات پر نیب چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نزیر احمد بٹ پیش ہوگئے تو چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین نیب سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ چیئرمین صاحب آپ شاید پہلی دفعہ کمیٹی میں آئے ہیں، جس پر چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ سر میں بطور چیئرمین نیب پہلی دفعہ آیا ہوں لیکن جو ذمہ داری اس سے پہلے انجام دے رہا تھا اس میں پتا نہیں کتنی دفعہ آیا ہوں،
چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نزیر احمد بٹ نے بات کا اغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میں آپکو تاریخ میں تین چار سال پیچھے لے کر جانا چاہتا ہوں، مجھے یہ ذمہ داری 2023 میں سونپی گئی، جو بھی وزیر ملا سب نے کہا کہ ہماری بیوروکریسی ڈرتی ہے کام نہیں کرتی.
اجلاس کے دوران ڈی جی آپریشنز نیب نے قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قانون میں نیب کو اختیارات دیئے گئے ہیں،نیب اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت نامزد تحقیقاتی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے اور اد ادارے کو قیام سے اب تک 5 لاکھ 5 ہزار 799 شکایات موصول ہوئیں،جن میں سے
نیب نے اب تک 12 ہزار 147 انکوائریاں مکمل کیں، 7 ہزار 339 تحقیقات اور 4 ہزار 105 ریفرنسز دائر کیے گئے ،
ڈی جی نیب نے مزید بتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین برس میں نیب کو 22.556 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا، گزشتہ ساڑھے تین برس میں 16.938 ٹریلین روپے کی ریکوری کی گئی.
اس دوران کمیٹی کے رکن سینیٹرکامران مرتضی ایڈووکیٹ سنے سوال کیا کہ چیئرمین صاحب آپ نے باقی سب تو بتا دیا جو سیاسی کیسز کا الزام لگتا ہے اس حوالے سے آپ کا کیا موقف ہے؟
چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نزیر احمد بٹ نے جواب دیا کہ میں جب سے آیا کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا،اس پر کامران مرتضی نے سوال کیا کہ آپ بتائیں ماضی میں جو سب ہوا اس پر کیا کیا ہے؟ اس پر نیب چیئرمین کا کہنا تھا کہ کاش میں آپ کے سامنے ماضی کا بھی جوابدہ ہوتا تو کامران مرتضی نے کہاکہ
آپ ادارہ ہیں ادارے کے طور پر جواب دیں،کیا آپ کے آنے کے بعد کرپشن میں کمی ہوئی؟
اس سوال پر چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نزیر احمد بٹ نے کہاکہ آپ نے مجھے ہاتھ باندھ کر کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا میرے ہاتھ تو کھولیں نہ. چیئرمین نیب کے ان ریمارکس پر کمیٹی کے چیئرمین فاروق نائیک نے کہاکہ آپ نے کرپشن کا سمندر لفظ استعمال کرکے کہہ دیا کہ سارا پاکستان ہی کرپٹ ہے،
سینیٹر کامران مرتضی نے سوال کیاکہ آپ نے کبھی بتایا کہ فلاں فلاں ترامیم سیاسی ہیں واپس لیں؟ آپ ایک ادراہ ہیں آپکو حکومت کو تحریری طور پر لکھ کر دینا چاہیے تھا، چیئرمین نے نے کہاکہ میں نے حکومت کو تجاویز دیں مگر کچھ چیزیں کانفیڈینشل ہیں، کامران مرتضی نے کہاکہ کانفیڈینشل نہیں آپ ہمیں بتائیں کبھی لکھ کر تجاویز بھیجیں؟
چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نزیر احمد بٹ نے جواب دیا کہ میں نے لکھ کر بھیجا کہ کاروائی کیلئے پچاس کروڑ کی حد کو کم کریں، میرے لکھ کر بھیجنے کا نتیجہ الٹا آیا وہ حد مزید بڑھ گئی، میں نے کہا تھا کاروائی کیلئے 15 کروڑ یا 20 کروڑ کی حد رکھیں،
چیئرمین کمیٹی فاروق نائیک نے نیب کے سربراہ سے کہاکہ آپ اس چھوٹی موٹی کرپشن ہو چھوڑیں بڑے کرپشن اسکینڈلز پر کام کریں، نیب کو میگا کرپشن کیلئے بنایا گیا تھا، چھوٹی کرپشن کیلئے تو ہر صوبے میں اینٹی کرپشن موجود ہے، نیلم جہلم بارہ تیرہ سو ارب لگا کر بھی نہیں بنا، یہ ہیں وہ معاملات جو آپ نے دیکھنے ہیں قوم کا بھلا ہوگا.
سینیٹر عبدالقادر نے سوال کیا کہ کہ آئی پی پی منصوبوں کی تحقیقات کیوں نہیں کرتے؟تو چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اگر کمیٹی ہمیں یہ کیس بھیجتی ہے تو مایوس نہیں کروں گا.
کمیٹی کے چیئرمین فاروق نائیک نے کہاکہ کسی منصوبے کی فورم سے منظوری پر تحقیقات نہیں ہو سکتیں، منظوری کے بعد اگر کرپشن ہوجائے تو نیب کاروائی کرے،
اس دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ جو کیس بھی کمیٹی بھیجے گی ہم اس پر کاروائی کریں گے،
سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ کیس بھیجنا ہمارا کام نہیں یہ آپ کا کام ہے.
چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نزیر احمد بٹ نے کہاکہ یہاں 2023 میں کوئی سیاستدان یا بیوروکریٹ کام کرنے پر تیار نہیں تھا، ہم بطور معاشرہ اتنے ہی کرپٹ ہیں جتنا کوئی بھی اور ملک ہے، ہم اب کوشش کرتے ہیں کیس چلانے کے بجائے لوٹی رقم واپس نکلوا لیں، ہم بلا کر بتا دیتے ہیں یہ رقم چوری کی ہے واپس جمع کراؤ،
بخدا میرا ایک تجربہ ہوگیا ہے ایک زبردست بات آپکو بتاتا ہوں کہ جو کرپشن کیخلاف زیادہ آواز اٹھاتا ہے اسی کے گھر سے زیادہ سامان ملتا ہے.


