اسلام آباد(محمداکرم عابد ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں میں سینیٹر طلحہ محمود نے خسارے میں چلنے والی نجی کمپنیوں کو سٹاک مارکیٹ میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے اس معاملے میں مشہور صنعت کار عقیل کریم ڈھیڈھی کا نام بھی لیا ہے اور کہا ہے کہ جعلی اڈٹ کے لئے بڑے بعض سرمایہ کار سہولت کار بن گئے ہیں۔
سینیٹ کی کمیٹی نے سٹاک مارکیٹ حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا ہے ۔اجلاس کے دوران یہ دعوی کیا گیا ہے کہ کم ٹرن آوٹ کو جعلی آڈٹ سے زیادہ ظاہر کرکے لمٹیڈکمپنی میں بدلا جارہا ہے ۔ وائٹ کالر جرم والے اربوں روپے لوٹ کر باہر بھاگ جائیں گے ابھی سے پکڑ لیں۔کمیٹی اجلاس میں کرنسی کی سیکیورٹی، ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت کتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے 5,000 روپے کے تین جعلی کرنسی نوٹ جو تقریباً دو سال قبل تصدیق کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھجوائے گئے تھے، جواب موصول نہ ہونے پرسخت تحفظات کا اظہار کیا۔
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے اعتراف کیا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث جعلی نوٹ تیار کرنا آسان ہوگیا ہے۔ نئے نوٹ کے ڈیزائن کے لیے کام ہورہا ہے۔کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ بولی کے مکمل عمل کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں اور ملک میں جعلی کرنسی کی گردش پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق پانچ ہزار کے نئے نوٹوں کو گردش میں لانے میں تقریباً ایک سال درکار ہوگا، ایک نوٹ کی طباعت کی لاگت تقریباً 14 روپے ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کو آسان بنانے کے لیے بینکوں کو سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔ موجودہ مالی مشکلات کے باعث سبسڈی جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
کمیٹی کی جانب سے بینکوں کو مدعو کرکے ترسیلاتِ زر کے شعبے میں ان کی کارکردگی اور کردار کے بارے میں بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بعض کیسز زیرِ التوا ہونے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی فہرست طلب کرلی ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے پاکستان میں کام کرنے والی ایسی کمپنیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو خسارے کی رپورٹنگ کے باوجود مبینہ طور پر فراڈ میں ملوث ہوسکتی ہیں اور اپنی مالی صورتحال کے بارے میں سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز کو گمراہ کرسکتی ہیں اور یہ جعلی آڈٹ کے ذریعے سرمائے کاحجم بڑھا چڑھا کر پیش کرکے لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل ہونگی۔سٹاک مارکیٹ میں داخل ہونگی اور یہ کمپنیاں بالآخر دیوالیہ ہوسکتی ہیں یا ملک چھوڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں شیئر ہولڈرز اور عام عوام کو اربوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایف آئی اے ایسی کمپنیوں کی ابھی سے مکمل جانچ پڑتال کرکے فراڈ پر مبنی سرگرمیوں کے خلاف بروقت کارروائی کرے۔ تاکہ عوام کی سرمایہ کاری اور محنت سے کمائی گئی رقم کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انھوں نے اس معاملے میں عقیل کریم ڈھیڈھی کا بھی نام لیاہے ۔ اورکہا ہے کہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کے جعلی آڈٹ کے لئے سہولت کاری فراہم کی جارہی ہے ۔


