اسلام آباد(ای پی آئی) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائر سیفٹی قوانین کے عدم نفاذ کے خلاف ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی ہے

درخواست ملک نوید عاشق اعوان نے ایڈووکیٹ افراسیاب احمد رانا کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جس میں موقف اپنایا گیاہے کہ پمز اسپتال میں 26 اگست کو آگ لگنے سے شیرخوار بچے زندہ جل گئے تھے،
پمز جیسے بڑے اسپتال کے پاس فائر ڈیپارٹمنٹ کی این او سی تک موجود نہیں تھی،

درخواست گزارنے اپنی درخواست میں وفاق، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر، ایم سی آئی ، ایچ ای سی، پائرا، ایف ڈی ای اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کوفریق بنایا گیا ہے

درخواست کے متن میں کہا گیاہے کہ اسلام آباد میں تجارتی، تعلیمی اور طبی عمارتیں بغیر فائر این او سی کے فعال ہیں، شہر کی عمارتوں میں فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی راستے اور فائر الارم تک موجود نہیں ہیں.

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010ء پر عملدرآمد کا حکم دیا جائے اور وفاقی دارالحکومت کی تمام عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کروانے کا حکم دیا جائے،

استدعا میں مزید کہاگیا ہے کہ بغیر فائر این او سی کام کرنے والی تمام عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا جائے اورفائر سیفٹی این او سی نہ رکھنے والی عمارتوں کی اپ ڈیٹ شدہ فہرست عام کی جائے،

درخواست گزارنے استدعاکی ہےکہ عدالت تعلیمی، طبی اور غذائی اداروں کی رجسٹریشن کو فائر این او سی سے مشروط کرنے کا حکم جاری کرے اورغیر قانونی اورغیر محفوظ عمارتوں کی مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ انسپکشن کا نظام قائم کیا جائے.