طلال چوہدری کا ڈمپر ڈرائیور کے اکاو¿نٹ میں 40 ارب روپے کی موجودگی کا تذکرہ

اسلام آباد(محمداکرم عابد)خیبر پختونخوا میں مبینہ کرپشن کی گونج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بھی سنائی دی گئی ہے۔اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم الرحمان کی صدارت میں ہوا۔رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر طلحہ محمود نے خیبر پختونخوا میں اہم منصوبوں میں کرپشن ہونے کے دعوے کئے اور مطالبہ کیا کہ صوبے کے چترال کی طرح کے دوردراز کے اضلاع میں ایف آئی اے کے دفاتر قائم کئے جائیں کرپشن عروج پر ہے بالخصوص سڑکوں پلوں میں بدعنوانیوں کا دور دورہ ہے۔

وزیرمملکت سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ اب تو وہاں ایک ڈمپر ڈرائیور کے اکاو¿نٹ میں مبینہ طور پر 40 ارب روپے کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔اس پر کمیٹی ارکان نے حیرت کے بجائے سوال اٹھایا کہ آخر عام افراد کے اکاو¿نٹس میں اربوں اور کھربوں روپے کیسے پہنچ جاتے ہیں؟

ارکان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ رقم منتقل کون کرتا ہے؟ سہولت کار کون ہیں؟ اور تحقیقات آخر رک کیوں جاتی ہیں؟چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ماضی کے ایسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مختلف عام شہریوں کے اکاو¿نٹس میں اربوں روپے کی موجودگی کے معاملات سامنے آتے رہے اور تحقیقات ہوتی رہیں،یہی پیش خیمہ ہے کہ اورڈمپر ڈرائیور کے اکاونٹ میں 40 ارب روپے کی خبر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔

سب سے اہم سوال یہی اٹھتا ہے کہ خبریں سامنے آ جاتی ہیں، انکشافات ہو جاتے ہیں، لیکن اصل کرداروں تک کارروائی کیوں نہیں پہنچتی؟

دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا سے متعلق یہ معاملہ جس قائمہ کمیٹی میں زیر بحث آیا،

اس کی سربراہی بھی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سلیم الرحمان کر رہے ہیں۔سوال اب صرف 40 ارب روپے کا نہیں، بلکہ پورے نظامِ تحقیقات کا ہے۔ آخر عام آدمی کے اکاو¿نٹس اربوں روپے کی کہانیوں کا حصہ کیسے بنتے ہیں؟ اور تحقیقات ہر بار کسی نہ کسی مقام پر کیوں رک جاتی ہیں؟

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں ارکان نے کہا کہ اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے۔ خیبر پختونخوا میں تو کرپشن عروج پر ہے۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سلیم الرحمان نے کہا کہ جب ماضی میں ڈھائی بلے والوں، ریڑھی فروشوں، ٹانگے والوں سے رکشے والوں کے اکاونٹ سے اربوں کھربوں روپے برآمد ہو رہے تھے اور تحقیقات ہو رہی تھیں، آج یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ انکشاف ہو گیا کہ ڈمپر والے کے اکاونٹ میں چالیس ارب روپے ہیں۔ ارکان نے کہا کہ یہ بات تو ہوتی ہے لیکن تحقیقات کون رکوا دیتا ہے؟ تفتیش کون رکوا دیتا ہے؟

یہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ارکان نے تشویش کا اظہار کیا کہ عام آدمی کے اکاو¿نٹس میں یہ اربوں کھربوں روپے کیسے جاتے ہیں؟ کون منتقل کرتا ہے، سہولت کار کون بنتا ہے، یہ تو سامنے لے آتی ہیں باتیں خبریں، لیکن کارروائی نہیں ہوتی، یہ نہیں پتا چلتا کہ یہ کہاں سے آئے، کہاں جاتے ہیں اور یہ تحقیقات کیوں رک جاتی ہیں۔