اسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمینٹ،ایوان صدر وزیراعظم ہاوس سمیت137 بلڈنگز کی حدود نیشنل پارک میں پائی جاتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اپنے ہاتھوں۔یہ انکشاف پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی میں موسمیاتی تبدیلی کے حکام کی جانب سے کیا گیا ہے ۔

اجلاس کنوینر معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت منعقدہوا۔وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حسابات سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی اور راولپنڈی کے ڈوبنے اور نالہ لئی کا معاملہ اٹھ گیا۔ارکان نے کہا کہ200 ملی میٹر بارش ہو گئی، پنڈی ڈوبا ہوا ہے،

معین عامر پیرزادہ نے وزراتی حکام سے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگ پہلے سے بارش کی فور کاسٹ کر سکتے ہیں؟ حکام نے کہا کہ جو کنونشن سائن کئے ہوئے ہیں ہم اس کی کوآرڈینیشن کرتے ہیں، سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی ،موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر وزارتی ڈیٹا اکٹھا نہ کرنے سے متعلق سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ رابطہ صوبوں کے ساتھ بھی رہتا ہے، رپورٹنگ کے اداروں میں سے کوئی بھی وزرات موسمیاتی تبدیلی کے ماتحت نہیں۔ارکان نے کہا کہ نالہ لئی کا بچپن سے ہم سنتے آرہے ہیں، اس کا کوئی متبادل روٹ ہو یا اس پر ورکنگ وغیرہ کرتے ہیں یا نہیں؟ اس وقت بھی نالہ لئی خبروں میں ہے، پورا سیوریج راول ڈیم میں آرہا ہے، جگہ جگہ آر او پلانٹس لگے ہوئے ہیں، ان کو کبھی چیک کیا ہے؟ کلین انوائرمنٹ فنڈ کی نان فنکشنگ سے متعلق آڈٹ اعتراض کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ارکان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے 75 فیصد محکمے پرائیویٹ کردیں، کام کرتے ہی نہیں، تباہی ہمارے سر پہ آ چکی ہے، جس طرح بارشیں ہو رہی ہیں، گرمی سردی پڑ رہی ہے، ماحول کا محکمہ تو اہم ہے اور یہ کام نہیں کر رہا، موثر پلاننگ کی ضرورت ہے، اس وقت سب سے اہم ڈیپارٹمنٹ کلائمنٹ چینج کا ہے ۔مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی منیجمنٹ اور ڈیمارکیشن کے لئے رولز نہ بنائے جانے سے متعلق آڈٹ رپورٹ پر حکام نے کہا کہ
اس کا تو نیا قانون آگیا ہے ، کمیٹی کا اصرارتھا کہ2024 میں جو ایکٹ آیا ہے، اس کے رولز کیوں نہیں بنے،جس طرح تجاوزات ہو رہی ہے کون روکے گا، رولز بنانے کے لئے دو مہینے کا وقت دے رہے ہیں، ارکان کے استفسار پر وائلڈ لائف کے حکام نے کہا کہ ایف 6 اور ایف 7 کا ایریا بھی نیشنل پارک میں آتا ہے، اس میں کافی ساری بلڈنگز ہیں،ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بھی اس میں آتا ہے،

حکام نے مزید بتایا کہ پارلیمنٹ ہاو¿س کا بھی کچھ حصہ اس میں آتا ہے، 137 بلڈنگز نیشنل پارک کی حدود میں پائی جاتی ہیں۔حکام کی رپورٹ پر مبینہ طور پر امکان ہے کہ پارلیمینٹ ہاؤس کے ساتھ ا یوان صدر، وزیراعظم ہاوس کی حدود نیشنل پارک میں موجود ہوسکتی ہیں۔