اسلام آباد(محمداکرم عابد)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل نے واپڈا کی جانب سے متوازی،، فورس قائم،، کرنے کے بل پر اعتراضات اٹھادیئے ۔

واپڈا نے اجازت مانگی ہے پولیس فورس کو نہ صرف مقدمے بلکہ گرفتاری کا بھی اختیار دیا جائے۔ ارکان نے یہ سوالات بھی اٹھادیئے ہیں کہ کراچی کو پانی کب ملے گا، برسوں سے جاری قومی منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار آخر کون ہے؟بلاول بھٹو اورہمارے گھر وں میں توٹینکرزمیں پانی نہیں آتا شہریوں کو فقیروں کی طرح پانی دیا جارہا ہے ۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین احمدعتیق انور کی صدارت میں ہوا۔شازیہ مری نے خطرے کی گھنٹی بجادی کہ K4کے شہرکراچی میں پائپ لائن بچھانے کے بعد کھنڈر شہر لاوارث چھوڑ دیا جائے گا کھدائی کے بعد تعمیر ومرمت نہیں کی جاتی جگہ جگہ کھڈے ہونگے ۔2010 سے شروع کے فور منصوبے میں تاخیر کے سبب کراچی شہر کو گھنڈرات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے گڑھوں میں شہری گرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ گیس اور واپڈا والے یہی کرتے ہیں۔ پائپ لائن بچھا کے تاریں بچھا کر چلے جاتے ہیں ۔ایم کیوایم ارکان نے کہا کہ شہروں کو اکھاڑ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ شہری مرتے ہیں گرتے ہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے انھیں۔بلاول ور ہمارے گھر توکنٹینرزمیں پانی نہیں آتا ۔شہر کراچی بوند بوند کو ترس رہا ہے ۔فقیروں کی طرح اہلیان کراچی کو پانی دیا جاتا ہے ۔ کے فور منصوبے کے حکام تاخیر کی وجہ کے بارے میں تسلی بخش جوابات نہ دے سکے۔

انھیں چیئرمین اور ارکان بار بار کہتے رہے کہ آپ فضول کی باتیں نہ کریں آپ ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں یہ بتائیں کہ 2010 میں پی سی ون بنا اور اب 2026 ہیں اب کہا جا رہا ہے 2030 میں کراچی کے شہریوں کو پانی ملے گا ۔ایم کیوایم کے ارکان نے کہا کہ اب کے فور کے بارے میں بتایا جا رہا ہے فنڈز نہیں ہیں۔

حکام نے کہا کہ وزیراعظم آفس کو کہہ دیا ہے کہ فنڈز کی تاخیر کی وجہ سے چھ قومی منصوبے پانی اور بجلی کے اور آبی وسائل کے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں کے فور منصوبے کی کارکردگی کے حوالے سے کمیٹی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ارکان کو مطمئن نہ کیا جا سکا جس پر سب کمیٹی بنا دی گئی۔ کیونکہ ابھی تو شہر میں پانی کی فراہمی کے پائپ لائن کے کام پائپ لائن بچھانے کا کام ہی شروع نہیں ہوا اور کہا کہ مختلف جگہوں پر ریلوے ٹریک گیس بجلی سب جگہوں پر اکھاڑ پچھاڑ ہوگی، واپڈا کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا انہوں نے پولیس فورس کے لئے اجازت مانگ رہی ہے۔

کمیٹی نے اس بل کو مسترد کر دیا ہے ۔ حیران کن ہے کہ ایک سرکاری ادارہ پولیس فورس بھرتی کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے ۔ایم کیو ایم کے ارکان نے کراچی میں پانی کے سنگین بحران پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ شہر کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور انہیں انتہائی محدود مقدار میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران ہونے والی کھدائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کہ شہر میں پائپ لائنیں اور بجلی یا گیس کے انفراسٹرکچر کے لیے سڑکیں کھود دی جاتی ہیں، لیکن بعد میں ان کی مناسب بحالی نہیں کی جاتی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس کا واضح پیغام یہ رہا کہ ایک طرف کراچی کو پانی کی شدید ضرورت ہے اور کے فور منصوبے میں تاخیر ناقابلِ قبول بنتی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف واپڈا کو الگ متوازی پولیس فورس قائم کرنے کی اجازت دینے سے فی الحال انکار کر دیا گیا ہے۔واپڈ سیکیورٹی فورس ترمیمی بل 2026پھر موخر کردیا گیا ۔

حکام واپڈ ا نے کہا کہ پرائیویٹ کمپنیوںکی سیکیورٹی مہنگی پڑ رہی ہے۔صبا تالپور جاوید علی شاہ کاموقف تھا کہ ہمیں اس بل پر مزید مشاورت کا وقت دیا جائے۔بل کے سیکشن سات پر اعتراضات ہیں،جس میں فورس لفظ استعمال کیا گیا۔واپڈا فورس کو گرفتاری کے اختیارات پر اعتراض ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے اتفاق رائے پیدا ہونے تک بل ائندہ اجلاس تک موخر کردیا۔ دوسری طرف سوالات اٹھے ہیں کہ کراچی کو پانی کب ملے گا، اور برسوں سے جاری قومی منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار آخر کون ہے؟