اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کیسز میں ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کا حق دینے کے لیے نیب آرڈیننس میں شامل کی گئی شق 32-A کو چیلنج کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے۔

درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ درخواست جوڈیشل ایکٹیوزم فورم کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سادہ قانون سازی کے ذریعے سپریم کورٹ کے آئینی اختیار کو ختم یا محدود نہیں کیا جا سکتا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ نیب کیسز میں ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت معاملہ سپریم کورٹ میں جاتا ہے، تاہم نیب آرڈیننس میں شق 32-A شامل کرکے سادہ قانون سازی کے ذریعے نیب کے فوجداری مقدمات کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دی گئی ہیں۔

’سادہ قانون سازی سے آئینی اختیار ختم نہیں کیا جا سکتا‘

وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کو آئین کے آرٹیکل 175-F کے تحت بنیادی طور پر آئینی معاملات کی سماعت کے لیے بنایا گیا ہے، جبکہ نیب کے فوجداری مقدمات کو بھی اس فورم کے دائرہ اختیار میں دینا آئین میں سپریم کورٹ کو حاصل اختیار سے متصادم ہے۔

اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا:

"آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ آئینی اختیار اور سادہ قانون سازی کے ذریعے تضاد آرہا ہے؟”

وکیل نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کے بعد نیب کیسز میں اپیل کا اختیار آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ کے پاس ہے اور اسے محض سادہ قانون سازی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے دوبارہ استفسار کیا:

"آپ کہہ رہے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 185 میں سپریم کورٹ کے اختیار کو سادہ قانون سازی ختم نہیں کر سکتی؟”

عدالت نے اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل کو آئین کا آرٹیکل 185 پڑھنے کی ہدایت بھی کی۔

’سپریم کورٹ کے سامنے شق 32-A کو چیلنج نہیں کیا گیا‘

سماعت کے دوران وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں کسی پیراگراف میں یہ نہیں لکھا گیا کہ نیب آرڈیننس کی شق 32-A کو سپریم کورٹ کے سامنے چیلنج کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے شق 32-A کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا تھا، اس لیے موجودہ درخواست میں اس قانونی نکتے کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ کے بعد نیب کیسز میں اپیل کا اختیار آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ کے پاس ہے اور اس اختیار کو نیب آرڈیننس میں ترمیم کرکے سادہ قانون سازی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

صدر، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو درخواستیں دینے کا دعویٰ

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ درخواست دائر کرنے سے قبل انہوں نے صدر مملکت، وزیراعظم، قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھی درخواستیں دیں اور مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔

وکیل نے عدالت کے سامنے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ سادہ قانون سازی کے ذریعے آئین میں دیے گئے عدالتی اختیار کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی حکومت سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس

چونکہ معاملہ پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی قانون سازی سے متعلق ہے، اس لیے عدالت نے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت نے سیکرٹری قومی اسمبلی، سیکرٹری سینیٹ، سیکرٹری وزارت قانون اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین سے ستمبر کے آخری ہفتے تک جواب طلب کیا ہے۔

معاملہ اہم کیوں ہے؟

درخواست میں اٹھایا گیا بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ آیا پارلیمنٹ سادہ قانون سازی کے ذریعے کسی ایسے معاملے کے بارے میں سپریم کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار کو محدود یا تبدیل کر سکتی ہے جو آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ کے اختیار میں آتا ہے۔

اس کیس کا فیصلہ نیب مقدمات میں ہائیکورٹ کے بعد اپیل کے فورم کے حوالے سے اہم قانونی اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ اس سے یہ سوال بھی زیر بحث آئے گا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات کے درمیان قانون سازی کے ذریعے کس حد تک فرق یا تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر جواب طلب کر لیا ہے اور کیس کی آئندہ سماعت ستمبر کے آخری ہفتے میں ہو گی۔