اسلام آباد (محمداکرم عابد)سینیٹ کی ذیلی کمیٹی داخلہ نے گیارہ سو ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری، اسمگلنگ کے معاملات پرمرکزی کمیٹی میں رپورٹ پیش کردی ہے۔جس میں 6 افسران کو ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے نام پرٹیکس استثنی لے کرشہروں کی فیکٹریوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔900 افراد نے رعایت لی صرف108کارخانے کسٹم چھوٹ کا ریکارڈ پیش کرسکے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس سینیٹر سلیم الرحمن کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ یہ معاملہ سگریٹ کے 2828 کارٹن اسمگل شدہ پکڑے جانے کے بعد شروع ہوا اور اس میں ہوشربا انکشافات ہو رہے ہیں کہ ایک شعبے میں نہیں تمام مصنوعات میں بھاری ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے اور بتایا گیا کہ قبائلی اضلاع میں کیونکہ ٹیکس استثناء دیا گیا تھا۔ ایس آر او جاری ہوا اور وسیع پیمانے پر ٹیکس استثنی کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق قبائلی اضلاع کے نام ان فیکٹریوں نے 279 ارب روپے کا گھی خام مال درآمد کیا گیا، 360 ارب کے سگریٹ کا مواد، 215 ارب روپے کا سٹیل، 65 ارب روپے کی قبائلی اضلاع کے عوام چائے پی گئے جبکہ وہاں تو قہوہ چلتا ہے اور بتایا گیا کہ 850 ارب روپے کے ٹیکس استثناءکے سرٹیفکیٹ پیش کیے جانے تھے جس میں سے صرف 203 ٹیکس استثناءسرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق بے نامی فیکٹریاں کام کر رہی ہیں، مینیول سسٹم ہے اور کوئی سٹاک رجسٹر موجود نہیں ہے۔

سب کمیٹی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ جب اتنے بڑے پیمانے پر اسمگلنگ سگریٹ پکڑا گیا تو پھر پلانٹ کیوں نہ بند ہوا تھا؟ سب کمیٹی کی رپورٹ 225 صفحات پر مشتمل ہے اور کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم اور وفاقی وزراءکو ایف بی آر نے ماموں بنادیا شہباز شریف، عطااللہ تاڑرِ خواجہ محمد آصف کے وڈیوبیانات پر اشتہارچلوایا گیا کہ پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سگریٹ ٹیکس چوری ہو رہی ہے اور اب کارروائی ہوگی اور یہ اشتہار چلتا رہا سارے ٹی وی چینلز پر۔ اس معاملے پر ایف بی آر، سارے ٹیکس حکام کو طلب کیا اور کہا کہ ایک ارب ڈالر ٹیکس چوری کا ہمیں تو بتائیں یہ قومی معاملہ ہے ایک ارب ڈالر کی وصولی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بار بار کے باوجود کوئی ریکارڈ نہ پیش کیا جا سکا۔

کمیٹی میں تنگ آمد بجنگ آمد کا معاملہ ہوا تو حکام نے بتایا سولہ ارب روپے۔ یعنی وزیراعظم کو، وزیر اطلاعات کو، وزیر دفاع کو شرمندہ کروا دیا گیاہے ۔اشتہار بند کرنا پڑا جب کمیٹی نے کارروائی شروع ہوئی کہ کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ قبائلی اضلاع کے نام پر، شہروں میں فیکٹریاں قائم ہیں کسٹم ڈیوٹی ٹیکس چوری ہورہا ہے ۔

کنوینرسب کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ٹیکس چوری روکوانے میں ناکام ان نااہل افسران کو ستارہ امتیاز دیے جا رہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر 1300 ارب روپے کی ٹیکس چوری میں ناکام ہیں، ممبر لینڈ ریونیو ناکام ہیں ان سارے معاملات میں، دوسری طرف ستارہ امتیاز دیا جا رہا ہے، شرم کا مقام ہے، شرم سے ڈوب مرو۔ سینیٹ کو بحث کرنی چاہیے کہ ذمہ داریوںمیں ناکام ناہل افسران کو ستارہ امتیاز دیے جا رہے ہیں۔

وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کو خزانے کمیٹی کو بھیج دیں تاکہ اس میں مزید کوئی فیصلے لیے جا سکیں۔ تو سلیم الرحمن نے واضح کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ پہلے کیوں نہ متحرک ہوئی؟ یہ معاملہ یہاں آیا ہے اسمگلنگ کی وجہ سے۔ سگریٹ اسمگلنگ ہو رہی تھی اب یہ معاملہ کو ہم منطقی انجام کو پہنچائیں گے۔ سینیٹ کی دیگر کمیٹی بحث کر سکتی ہے، سینیٹ میں بھی بحث ہوگی۔ اب سب کمیٹی کی رپورٹ کو اختیارکرلیا گیا ہے، 225 صفحات مشتمل اس رپورٹ سے بڑے بڑے خاندان ان معاملات میں بے نقاب ہو سکتے ہیں

کمیٹی نے نجی ہسپتالوں کی بھاری فیسز کے شفاف ضابطہ کار ۔گھریلوملازمین۔بچوں سے زیادتی کے معاملات پر تین الگ الھ بلز کی منظوری دے دی ہے ۔ بلزکی حکومتی مخالفت پر طلال اور ابڑو میں تلخ کلامی بھی ہوگئی۔وزیر کا موقف تھا کہ غیر متعلقہ قوانین میں ترامیم کی جارہی ہیں صوبوں سے رائے آنی چاہیے تھی ۔محرکین کا موقف تھا کہ وزارت والے پڑھ کر آیا کریں ۔سینیٹ سیکرٹریٹ سے اعلی حکام تفصیلی جائزہ کے بعد کمیٹی کو بلز سپرد کرتے ہیں ،وزیر ہمیں سبق نہ پڑھائیں۔