اسلام آباد(ای پی آئی )سپریم کورٹ نے پاکستان بیت المال کو دونابالغ بچیوں کو شادی تک دس ہزار فی کس وظیفہ دینے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مستحق افراد کی نشاندہی عدالت کا اختیار، امداد کی رقم اور مدت کا تعین بیت المال کرے گا.
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری نے نابالغ بچیوں نے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ مستحق افراد کی نشاندہی عدالت کا اختیار ہے، تاہم امداد کی رقم اور مدت کا تعین بیت المال کرے گا،بیت المال کیس کے مطابق امداد کی شکل اور حد کا تعین کرسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے 2 ہندو نابالغ بچیوں کی کفالت سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مستحق افراد کی نشاندہی عدالت کا اختیار ہے، تاہم امداد کی رقم اور مدت کا تعین بیت المال کرے گا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ بیت المال مستحق بچوں کی کفالت کے معاملات دیکھے اور پالیسی و اہلیت کے معیار کے مطابق درخواست گزار کے حالات کا جائزہ لے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ظاہری حالات بیت المال سے رجوع کا تقاضا کریں تو کیس بیت المال کو بھیجا جاسکتا ہے، جبکہ بیت المال کیس کے مطابق امداد کی شکل اور حد کا تعین کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے بیت المال کو ہدایت کی کہ وہ دونوں نابالغ ہندو بچیوں جیسیکا اور سانیکا کو شادی تک ماہانہ 10،10 ہزار روپے وظیفہ ادا کرے اور وظیفے میں سالانہ 10 فیصد اضافہ بھی کیا جائے۔ فیصلے کے مطابق کوئی فریق بچیوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھا، جبکہ بیت المال سے رجوع کرنے کی عدالتی ہدایت میں کوئی قباحت نہیں اور جہاں معاملہ اس کے دائرہ کار میں آتا ہو، وہاں اس سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ کیس کے پس منظر میں ہندو خاتون ریتا کے شوہر روی کمار نے 2017 میں خودکشی کی تھی، جس کے بعد ریتا نے اپنی اور دو بیٹیوں کی کفالت کے لیے دادا رام راج سے خرچے کا دعویٰ کیا۔ عمر رسیدہ رام راج کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ اور اپنی رہائش بھی نہیں تھی۔ فیملی کورٹ نے دونوں بچیوں کے لیے ماہانہ 3،3 ہزار روپے نفقہ مقرر کیا تھا اور سالانہ 10 فیصد اضافے کا حکم دیا تھا، تاہم رام راج نے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے قرار دیا کہ دادا پر نابالغ بچوں کی کفالت کی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ بعد ازاں بیت المال نے سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹنے قراردیاہے کہ بیت المال مستحق بچوں کی کفالت کے معاملات دیکھے، ظاہری حالات بیت المال سے رجوع کا تقاضا کریں تو کیس بیت المال کو بھیجا جائے، بیت المال پالیسی اور اہلیت کے معیار کے مطابق درخواست گزار کے حالات کا جائزہ لے، بیت المال کیس کے مطابق امداد کی شکل اور حد کا تعین کرسکتا ہے لیکن عدالت مستحق کیس کو متعلقہ فلاحی ادارے تک پہنچانے کی ہدایت کرسکتی ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ میں کہا ہے کہ بیت المال سے رجوع کرنے کا اختیار مستحق افراد کی مدد کا مؤثر طریقہ ہے،
عدالت نے لکھا ہے کہ کوئی فریق بچیوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھا،
یاد رہے کہ فیملی کورٹ نے دونوں نابالغ بچیوں کے لیے 3،3 ہزار روپے ماہانہ نفقہ مقرر کیا تھافیملی کورٹ نے بچیوں کے نفقے میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا بھی حکم دیا تھا رام راج نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا سندھ ہائیکورٹ نے دادا پر نابالغ بچوں کی کفالت کی قانونی ذمہ داری عائد نہ ہونے کا قرار دیا
بیت المال نے سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ بیت المال سے رجوع کرنے کی عدالتی ہدایت میں کوئی قباحت نہیں، بیت المال سے رجوع وہاں کیا جاسکتا ہے جہاں معاملہ اس کے دائرہ کار میں آتا ہو.


