اسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیکل اسٹاف کے پھنسے پانچ اعزازیوں کا مسئلہ حل ہوگیا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کی کوششوں سے اعزازیے کی ادائیگی کی راہ ہموار ہوگئی۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزرات خزانہ کے حکام کو طلب کیا گیا تھا۔وزارتِ خزانہ اور وزارتِ صحت کے اشتراک سے ایک ہفتے میں واجب الادا رقم جاری کرنے کی یقین دہانی کرادی گئی۔اعزازیے کی بحالی کا کریڈٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کے سر۔10 سال سے ریفنڈ زیرِ التوا! سینیٹ خزانہ کمیٹی نے ریکارڈ طلب کر لیاہے۔کمیٹی میںبڑا سوال اٹھ گیا ۔
350 ارب روپے تک ریفنڈ زیرِ التوا رکھنے کی آئی ایم ایف کی اجازت پرارکان کمیٹی حیران رہ گئے۔ریفنڈ کا 10 سالہ ریکارڈ طلب، حکام واضح جواب نہ دے سکے۔دو ماہ میں 300 ارب سے زائد ریفنڈ ادا ہوئے، پھر پرانے ریفنڈ کیوں رکے؟نئے کرنسی نوٹوں پرگورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو اِن کیمرہ بریفنگ دی ۔نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن ممکنہ بندش سے آگاہی دی گئی ہے۔اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا وزیر مملکت خزانہ بلال اظہرکیانی نے بتایاکہ پارلیمنٹ ہاو¿س کے میڈیکل اسٹاف کے پانچ عزازیوں کا مسئلہ حل کرلیاگیا ہے۔تاہمپارلیمنٹ ہاو¿س کے میڈیکل اسٹاف کا وفاقی بجٹ کے حوالے سے پانچ اعزازیوں کی ادائیگی خزانہ، صحت کی وزارتوںمیں شٹل کاک بن کر رہ گئی تھی ۔ یہ مسئلہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پہنچ گیا ہے ۔وزیرمملکت نے بتایا ہے کہ وزارت صحت سے بات ہوگئی ہے جلد ادائیگی کردی جائے گی۔وفاقی وزیرخزانہ نے منظوری دے دی ہے ۔ یاد رہے کہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے پارلیمنٹ ہاو¿س میں کام کرنے والے تمام اداروں کو پانچ اعزازیہ مل گئے تھے۔ پارلیمنٹ ہاو¿س کے میڈیکل اسٹاف محروم تھا۔ اس پر سینیٹ کمیٹی نے نوٹس لیا تھا، وزیر مملکت خزانہ کو طلب کیا گیا وزارت سے تحریری ضمانت لی گئی ہے۔ایک ہفتے میں وزارت خزانہ، وزارت صحت کے اشتراک سے یہ رقم جاری کروا دے گا۔ یہ بڑی پیش رفت ہے جس کا اعزازسینیٹ کمیٹی کو ملا ہے ۔کمیٹی کو یہ بھی آگاہی دی گئی تھی کہ فارن کرنسی اکاو¿نٹ کے جو ڈیپازٹ سے متعلق معاملہ عدالت میں ہے، کمیٹی مداخلت نہیں کر سکتی۔ ارکان نے کہا اس پر ہم بحث تو کر سکتے ہیں۔ ریفنڈ کے معاملات پر ارکان کی تشویش تھی حکام اس حوالے سے کمیٹی کو کوئی واضح جواب تو نہ دے سکے، دس سالہ ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے ریفنڈ کا۔ سب اس پر حیران تھے کہ آئی ایم ایف نے اجازت دی ہے کہ ہم تین سو پچاس ارب روپے،تک کے ریفنڈ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ تین سو ارب سے زیادہ دو ماہ میں ریفنڈ کی ادائیگیاں کردی گئی ہیں اور گزشتہ سال پانچ سو ارب کے ریفنڈ کی ادائیگیاں کی گئی تھیں۔ یہ نہ بتا سکے کہ سات، آٹھ، نو سال تک یہ ریفنڈ کیوں زیر التوا ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے بارے میں کمیٹی کو اِن کیمرہ اجلاس میں بریفنگ دی۔