ملک کی دوسری طاقتور شخصیت محسن نقوی، نے نظام کو کولیپس قرار دیکر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کرکے ایک نئی بحث کو ایک بار پھر چھیڑ دیا ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ وہ جن کے ہیں یہ ایجنڈا بھی انہی کا ہے۔
یہ بحث پارلیمانی فورم کے بجائے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے قریبی حلقوں میں ایک منصوبے کے ساتھ شروع کرائی گئی، اس سے پہلے اٹھائیس ویں ترمیم کے حوالے سے باتیں چل رہی تھیں، لیکن صرف باتیں تھیں، سچ کا سرا ڈھونڈنا مشکل تھا، جو کام ترمیم کے مسودے نے کرنا تھا محسن نقوی صاحب نے کردیا۔
ملک کے وزیر داخلہ کے بیان کے بعد باقیوں نے اس بحث میں حصہ ڈالا، سیاسی ماہرین اور سماجی علوم کے "ڈاکٹرز” کے روپ میں درجنوں لوگ سامنے آئے، نتیجے میں سندھ میں بےچینی بڑھ گئی اور مظاہرے شروع ہوگئے، پھر سندھ کی اسمبلی نے بھی واضح اعلان کیا سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔
سندھ نے اسے ایک خوفناک منصوبہ کیوں سمجھا؟حالانکہ بظاہر تو بات ترقی کی ہورہی تھی، تو کیا یہ لوگ کسی پرانی صدی کے ہیں جو ترقی کے مخالف ہیں، یا استحصال کی ایک طویل تاریخ نے بے اعتباری کو مزید بڑھادیا ہے، کہ ترقی کے نام پر ان کے وسائل پر کنٹرول کیا جائے گا؟ یہ خوف آج کا نہیں، سندھ اسمبلی کی تاریخ اٹھالیں تو پتہ چل جائے گا کہ کیوں اس نے مختلف ادوار میں 6 بار سندھ کی تقسیم کے منصوبے کو مسترد کیا۔
اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے جتنے بھی ” مبلغ” ہیں، وہ دن رات ایک کیئے ہوئے ہیں کہ اگر ملک میں پندرہ بیس صوبے بن گئے تو یہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیئیں گے، زندگی ایک نظم میں آجائے گی، کوئی بچہ بغیر علاج کے نہیں مرے گا، سب اسکول جائیں گے، مائیں صبح کو انہیں صاف یونیفارم پہناکر اسکول بھجیں گی، لیکن داستان گوؤں کو کون سمجھائے کہ بھرے پیٹ پیٹ والے کو چاند میں بڑھیا اور بھوکے کو روٹی نظر آتی ہے۔!
صوبوں تقسیم کے ایجنڈے کی تکمیل کی خواہش میں ایک بات، جسے جان بوجھ کر گڈ مڈ کردیا گیاہے، وہ ہے صوبوں کی تقسیم یا انتظامی یونٹ، محسن نقوی نے بھی یہ بات کی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ نئے صوبے بنائے جائیں یا انتظامی یونٹس بنائے جائیں۔ اگر قانونی اور آئینی طور پر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ان دونوں میں زمین آسمان فرق ہے، نئے صوبے کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دوتہائی رائے چاہیئے، جبکہ انتظامی یونٹس کا فیصلہ ویز اعلیٰ ہی کرسکتا ہے۔ نئے صوبے کیلئے ایک پورا صوبائی سسٹم چاہیے، صوبائی اسمبلی، سیکریٹریٹ، کابینہ، جہاز، ایم پی ایز، بیوروکریسی، این ایف سی، سینیٹ وغیرہ وغیرہ، جبکہ انتظامی یونٹ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ اسی کے رولز آف بزنس کے تحت بنتا ہے۔تحصیل،ضلع، یا ڈویژن، یہ انتظامی یونٹس ہیں، جن کو ایک قانون کے ساتھ چلایا جاتا ہے، اور یہ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ لیکن بحث چھیڑنے والوں نے ان دونوں معاملات کو اکٹھا کردیا ہے، نتیجے میں جو صوبے کی تقسیم کے مخالف ہیں اب وہ بھی انتظامی یونٹس کی مخالفت کر رہے ہیں،ان کی مخالفت کا جواز سمجھ میں آتا ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بات انتظامی یونٹس کی ہو یا نئے صوبے بنانے کی، اصل تو نیت کا فتور ہے، ترقی کی خواہش نہیں، انتظامی یونٹس تو اس وقت ہر صوبے میں ڈویژن کی صورت موجود ہیں تو پھر کسی کو کوئی اعتراض کیوں ہوگا کہ ایک کے بجائے دو ڈویژن بنادی جائیں، تاکہ لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے زیادہ جوکھم نہ اٹھانا پڑے، لیکن بنیادی طور پر بات لوگوں کی آسانی کی نہیں ہورہی ، پیٹ کا درد یہ ہے کہ صوبوں کے ساحل ، وسائل اور سیاسی معاملات کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ان دو پہلوؤں کا ذکر ضروری ہے، جس نے حالیہ بحث کے بعد ایک نئے تعصب کو جنم دیا ہے، وہ آگ جو ایک عرصے سے سندھ میں راکھ بن گئی تھی، اس میں چند چنگاریاں اب اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔اسلام آباد یا لاہور کے شیشے کے گھروں میں رہنے والی مالی، پاوری اور دانشوری اشرافیہ کو لگتا ہے کہ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبوں کا آبادی میں بڑا ہونا ہے، نتیجے میں صوبے کے وسائل عام آدمی تک نہیں پہنچتے۔ حالیہ بحث میں حصہ لینے والوں نے تاریخ، قانون اور ثقافتوں کو ایک طرف رکھ کر اپنی غلاظتیں باہر نکالی ہیں، جن سے ماحول مزید زہریلا بنتا جارہا ہے۔اس کی کئی مثالیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ حال ہی میں بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ” صوبے کسی کی پراپرٹی نہیں یہ پاکستان کی ملکیت ہیں” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ” صوبائی اسمبلی کا فیصلہ عوام کا نہیں ارکان کا ہے” ڈاکٹر طارق فضل کو ضرور معلوم ہوگا، کہ پاکستان کی تاریخ کیا ہے، یہ چار صوبے، جنہیں وہ ایک تضحیک آمیر انداز میں پاکستان کی پراپرٹی قرار دیتے ہیں، یہ پاکستان کے قیام سے پہلے الگ الگ ملک تھے، لیکن کیونکہ اس وقت مرضی چلانے والوں کی ہاں میں ہاں ملانا ضروری ہے اسی لیئے ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہے تاکہ سرخرو ہوجائے۔
جو سیاسی کارکن، اپنے سیاسی جغرافیہ، کلچر،روایات سے واقف نہ ہو وہ کبھی بھی درست حقائق بیان نہیں کرسکتا۔ شاید ڈاکٹر طارق کو معلوم ہو کہ 1947ع کی تقسیم سے پنجاب کا زیادہ جانی نقصان ہوا تھا، اور صوبہ بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ لیکن سندھ کا کیس پنجاب سے بہت ہی مختلف ہے۔ سندھی عوام، جو آج صوبے کی تقسیم کی مخالف ہیں اس کی دو بڑی وجوہات ہیں، ایک یہ کہ سندھ کی موجودہ ہیئت و حدود سیاسی ہیں، بمبئی پریزیڈنسی میں جانے سے پہلے سندھ ایک خود مختار ملک تھا، مسلم لیگ پورے بھارت میں آل انڈیا مسلم لیگ تھی صرف سندھ میں سندھ مسلم لیگ تھی، کیونکہ جناح صاحب کو جب حمایت کی ضرورت تھی تو انہوں نے خود کہا کہ آپ آل انڈیا کے بجائے مسلم لیگ کا نام سندھ مسلم لیگ رکھ لیں۔
دوسری بات یہ کہ تقسیم کے بعد سندھی 8 دہائیوں سے جس کرب سے گذرے ہیں اس کا دیگر پاکستانی عوام کو ہمارے نام نہاد نیشنل میڈیا نے اس لیئے نہیں بتایا کہ وہ بنیادی طور پر شہروں اور ایک مخصوص سیاسی طبقے کا میڈیا تھا اور ہے، تقسیم کے بعد کراچی میں جنگ اخبار کا سندھیوں کے حوالے سے جو کردار تھا وہ کسی طور نیشنل میڈیا کی صحافتی اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتا۔
سندھ اپنی تقسیم کی مخالفت اس لیئے کرتا ہے کہ 80 سال پہلے جس طرح یوپی اور پنجاب کی مسلمان جاگیردار اشرافیہ نے بیورو کریسی کا ایک گٹھ جوڑ بناکر پاکستان کے سسٹم پر قبضہ کیا تو اس وقت بنگال سمیت پاکستان کے تینوں صوبوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کیا ہوگیا۔
” تھا جس کا انتظار یہ وہ سحر تو نہیں”
لیاقت علی خان وزیراعظم تھے، لیکن جس صوبے میں بیٹھے ہوئے تھے، اسی کی تہذیب کو گھوڑوں گدھوں کی تہذیب کہتے تھے، ایک بڑے عرصے تک لکھا اور بتایا گیا کہ سندھیوں کو ہم نے کھانا کھانا سکھایا، کپڑے پہننا سکھائے، یہ وہی سندھی تھے، جنہوں نے بانہیں کھول کر بھارت سے آئے اپنے مسلمان بھائیوں کا استقبال کیا ، جو مہاجرین کراچی پہنچے، ان کا پہلے ہی ذہن بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے وطن جارہے ہیں،یعنی ایک ایسا وطن، جس کی نہ وہ زبان جانتے تھے، نہ کلچر اور روایات سے واقف تھے اور نہ کبھی انہوں نے اسے دیکھا بھی تھا، وہ ذہنیت آج بھی ایم کیو ایم جیسی جماعت کے نظریئے میں واضح محسوس ہوتی ہے، مانا کہ اردو بولنے والے سندھی تین نسلوں بعد خود اس نظریئے کو دفن کرکے ایک نئے سفر کی جانب چل رہے ہیں، لیکن اسٹیبشلمنٹ کے حواری ان کا کالر چھوڑنے کو تیار نہیں۔
لیاقت علی خان کے روئے کے بعد سندھیوں کو احساس ہوا کہ ملک کا وزیراعظم روداداری پر کھڑی ہزاروں سال کی قدیم تہذیب سے کتنی نفرت کرتا ہے۔
تقسیم کے حوالے سے وزیرہ فضیلہ یعقوب علی کی کتاب ” د لانگ پارٹیشن” پڑھ لیں تو اندازہ ہوجائےگا کہ جنگ اخبار جو خود کو قومی میڈیا کہتا تھا کس طرح سندھیوں کا مخالف تھا۔
سندھ، جس کی معیشت زرعی ہے،اس کے پانی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، دریائے سندھ کے آخری وہ شہر جو کبھی نخلستان ہوا کرتے تھے، انہیں سمندر کھاگیا ہے،سندھ نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت اس لیئے کی کہ پانی پر پہلے سے زیادہ کنٹرول بڑھ جائے گا، بے اعتمادی پہلے تھی، تو مزید اعتبار کیسے کیا جاسکتا تھا۔لیکن کالاباغ ڈیم کے حق میں یہ دلیل گھڑی گئی کہ دریا کا پانی سمندر میں ضایع ہوجاتاہے، اس دلیل کیلئے کوئی سائنسی ثبوت نہیں دیا گیا۔ کہا گیا سندھی پاکستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمارے وہ اہل دانش دوست، جو پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، وہ کراچی کی تاریخ کا ریکارڈ اٹھاکر دیکھ لیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ کیٹی بندر ٹاؤن کمیٹی نے ایک بار کراچی میونسپل کمیٹی کو قرضہ دیا تھا، اب یہی کیٹی بندر سمندر برد ہوچکا ہے۔
پاکستان کی اشرافیہ کو شاید نہیں معلوم کہ اس بربادی پر عالمی ادارے تو اسٹڈی کراتے ہیں، لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ دریا کا پانی سمندر میں ضایع ہوتا ہے۔ اگر دریا کا پانی سمندر میں جارہا ہوتا تو سمندر کبھی بھی اتنا آگے نہ آتا کہ سینکڑوں دیہات اور درجنوں ٹاؤن ویران یا زیر آب آجاتے۔ لیکن قومی میڈیا میں آہستہ آہستہ ہونے والی اس تباہی کی جگہ نہیں۔
یہی سبب ہے کہ سندھی اپنے دریا کے بارے میں زیادہ ہی حساس ہیں۔
ون یونٹ بنایا گیا،تب قوموں کی زبانوں اور شناخت کو کالعدم کردیا گیا، کیونکہ بنگالیوں سے مقابلہ کرنا تھا۔سندھی اس لیئے اپنی زبان اور کلچر کےحوالے سے حساس ہیں۔ یاد رکھیں کہ سندھیوں کی تین ریڈ لائینز ہیں، زبان، حدود اور دریا۔
جو لوگ آصف زرداری کے پہلے دور صدارت میں ان کے سر پر رکھی سندھی ٹوپی پر طنز کے بعد ایک آواز بن گئے تھے، وہی لوگ ایک سال پہلے کینال کے معاملے پر جو کچھ آصف زرداری کے خلاف کہہ رہے تھے وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
اس لیئے سندھ کی تقسیم کی مخالفت صرف پیپلزپارٹی کا نہیں سندھ کی عوام کا مسئلہ ہے، پیپلزپارٹی اپنی عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہی تو یہ اس کا فرض تھا۔ جو اس نے نبھایا۔
لاہور اور اسلام آبادی کی کاروباری، سیاسی اور مالی اشرافیہ اپنے شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دانشوری جھاڑنے کا آسان کام تو کرسکتی ہے، لیکن پاکستان صرف یہ دو شہر نہیں، پاکستان، بدین سےدور وہ گاؤں بھی ہے، جن کے لوگوں کے تن بدن پر کپڑے نہیں، جو آج بھی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں، اور شکر بجالاتے ہیں۔ان کے پاس بھی ویسا ہی شناختی کارڈ ہے، جیسا لاہور اور اسلام آباد والوں کے پاس ہے۔
کراچی کے اسٹاک ایکسچینج کے بڑے اکاؤنٹ اور پیٹ والے ٹیکس چور ایجنٹ جو معیشت کو اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں، اب وہی اس ملک کی حدود کو تقسیم کرنے کیلئے انگڑایاں لے رہے ہیں۔سیاست دان کتنا ہی بدتر اور بدبودار کیوں نہ ہو، لیکن اسے واپس لوگوں کے پاس ہی آنا ہوتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ننگے پاؤں والا، وقت آنے پر کیسے بھرے مجمعے میں پچھاڑ سکتا ہے، جبکہ کاروباری کا کیا ہے، دکان ایک جگہ نہ چلی تو دوسری جگہ کھول لےگا۔
اب آخری بات:
پاکستان کی بنیاد 1973 کا آئین ہے، یہ ہی اس ریاست کا محور ہے، ڈکٹیٹرز نے اسے منسوخ کیا، لیکن پھر اسی میں ترامیم کرکے اپنے اقتدار کو جواز بخشا، اٹھارویں ترمیم اصل میں میثاق جمہوریت کا ثمر ہے، جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔اس نے تعصبات کو ختم کیا، ترقی کی مسابقت کی بنیاد ڈالی، اسے چھیڑنے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا، ترقی کا نام لیکر اسے مت چھیڑا جائے، یہ مطالبہ ہونا چاہیئے کہ آئین کی روح کے مطابق اس پر عمل ہونا چاہیئے، پاکستان کے لوگوں کو عزت دینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لوکل باڈیز سسٹم کو طاقتور بنایا جائے، براہ راست انتخابات کراکے لوگوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے نمائندے چنیں اور ان کا احتساب کریں۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے رویوں کو تبدیل کریں، اپنی جماعتوں کو فیملی کمپنیز بنانے کے بجائے پارٹی کیلئے لڑنے مرنے والوں کیلئے جگہ پیدا کریں تو ایک نئی لیڈر شپ پیدا ہوگی، اور حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔
صوبے چار ہیں ، آپ چالیس بنادیں، لیکن کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ نیت مالی اور سیاسی کنٹرول کی ہے، عام آدمی کی ترقی کی نہیں ۔ (رزاق کھٹی)