اسلام آباد(محمداکرم عابد)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری نے قرار دیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد کارکردگی مزید خراب ہو گئی ہے اراکین نے شکایات کے انبار لگا دیے کہ سیٹیں اکھڑ گئی ہیں کیٹرنگ میں بدانتظامی ہے۔80ارب مالک کے اکاونٹس میں منتقل کہاں خرچ ہورہے ہیں یا ہونگے؟
پی آئی اے ڈیل کے مبینہ نقائص کی نشاندہی کنسلنٹ بتانے میں ناکام اخراجات کے مکمل گوشوارے طلب ایک خاتون رکن کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ملازمین نے بتایا ہے کہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ پی آئی اے کی کارکردگی خراب ہو رہی ہے۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے تمام اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیںَ
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہر بجلی فراہم کرنے والی کمپنی میں کم از کم پچاس لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔ ایک پارٹی کو تمام ڈسکوز حوالے نہیں کی جائیں گی۔
سیکرٹری نجکاری نے زرعی ترقیاتی ادارے میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے قرضوں میں رشوت طلب کرنے کی عام شکایات ہیں کرپشن پر قابوپانا ہے نجکاری ضروری ہے ۔
قائمہ کمیٹی میں انشورنس پالیسی ہولڈرز کا معاملہ بھی پیش کیا گیا۔ پوسٹل سروسز کے ملازمین کئی سالوں سے اپنی پالیسی ہولڈرز کی رقوم سے محروم ہیں۔ اراکین کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ یہ رقم کیوں دبا کر بیٹھی ہے۔شاہانہ اخراجات جاری ہیں بجٹ خدمات کے نام پروزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ کے ملازمین نے چھ چھ اضافی تخواہیں وصول کرلیں۔انشورنس والے ملازمیں رل گئے ہیں اپنے بچوں کی شادیاں کروانی ہیں۔ رقم ہی نہیں مل رہی۔
کمیٹی نے ادائیگیوں کا ٹائم فریم مانگ لیا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کو طلب بھی کرلیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی حیدر آباد میں بلدیاتی اداروں کےپچیس ہزار پنشنرز، پنشنز سے محروم ہیں سندھ کے شاہانہ اخراجات جاری ہیں ۔
قائمہ کمیٹی میں پی آئی اے کی اور ڈسکوز کی نجکاری پر بریفنگ دی گئی۔ پی آئی اے کی ڈیل پر ارکان نے تحفظات اٹھائے ہیں اور ارکان کا کہنا تھا یہ رقم کہاں سے آئی۔ کس سرمایہ دار کی یہ رقم تھی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں نوے ارب کی سرمایہ کاری ہو گئی ہے اسی ارب پی آئی اے میں استعمال کیے جائیں گے دس ارب حکومت کو منتقل ہوئے ہیں ۔اگلے بارہ ماہ میں پینتالیس ارب روپے مزید پی آئی اے میں منتقل ہونگے اور پینتالیس ارب روپے حکومت پاکستان کے خزانے میں جائیں گے۔
ارکان نے کہا کہ یہ نہیں بتایا جا رہا کہ پی آئی اے کو ایک سو پینتیس ارب روپے جو منتقل ہوں گے کہاں خرچ ہوں گے ۔نئے جہاز خریدے جائیں گے۔ قرضے ادا کیے جائیں گے یا کیٹرنگ میں بہتری لائی جائے گی۔حال ہی سے عمرہ سے واپس آنے والی خاتون رکن کا کہنا تھا کہ کیٹرنگ خراب تھی سیٹیں ٹوٹی ہوئی تھی۔
اجلاس میں کنسلٹنٹ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ کمیٹی نے پی آئی اے کے بڑھتے ہوئے کرایوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے خط لکھ دیا ہے حکومت تفصیلی رپورٹ پیش کرے ۔کمیٹی نے ڈسکوز کے تمام اثاثے طلب کر لیے گئے ہیں ۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ڈسکوز ڈسکوپارٹی بن کر رہ گئی ہے ۔کے الیکٹرک کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ دن رات بجلی کے تعطل نے اہل کراچی کی زندگی اجیرن بنادی ہے نیپرا کہاں ہے ۔ کمیٹی نے دونوں اداروں تک رسائی مانگ لی ہے ،سب کمیٹی کے ارکان کے الیکٹرک کا دورہ کرےں گے ۔کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کراچی سمیت مختلف جگہوں پر رات دن لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ڈھائی ڈھائی گھنٹے کے بعدکچھ دیر بجلی پھر لوڈ شیڈنگ اور وزیراعظم کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں یہ معاملہ براہ راست ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ کارکردگی پر سوالات ہوئے ۔
کمیٹی میں سحرکامران نے تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی جس پر ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستارنے پیپلزپارٹی کا کابینہ میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ وزیربن جائیں پھرہم کارکردگی کے بارے میں سوالات کریں گے ،پی آئی اے میں ہردور حکومت میں تباہی آئی ۔تاہم کمیٹی میں یہ خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کے نام پر منتقل 80ارب روپے سے کوئی اورکمپنی تو نہیں چلائی جارہی ہے رقم تو مالک کے اکاونٹ میں گئی ہے،مرضی تو نہیں ہے پیسے کے استعمال کی ۔
بتایا جائے کوئی نئے جہاز ۔کوئی قرضوں کی ادائیگی کیا بہتری لائی گئی ہے۔ تمام اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ کمیٹی کی سب سے بڑی خبر یہی ہے کہ پی آئی اے کی نئی انتظامیہ نہ بتا سکی ایک سو پینتیس ارب روپے کے اخراجات قومی ایئرلائن میں کیسے خرچ ہوں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں ہر دور حکومت میں خرابیاں ہوئیں۔


