اسلامآباد(ای پی آئی) معروف صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان نے پاکستان میں پی ٹی آئی کارکنان پر دہشتگردی کے مقدمات میں سامنےآنے والے گواہوں اور کیس کی سماعت کے دوران جرح کی ایک کہانی لکھی ہے.اپنے ایکس اکاؤنٹ میں مطیع اللہ جان نے لکھا ہے کہ
پاکستان میں پی ٹی آئی کارکنوں پر دھشت گردی کے مقدمات میں گواہوں اور جرح کی ایک کہانی۔
پی ٹی آئی کی قیادت کیخلاف 24نومبر احتجاج کیس 18 ھزار کے قریب ملزمان نامزد ہیں، ایک پولیس گواہ ضیا الحق نے انسدادِ دھشت گردی کی عدالت کے طاہر محمود سپرا کی عدالت میں گواہی دی اور اُس پر ملزمان کے وکیل کیطرف سے جرح کی گئی۔
پاکستان میں پی ٹی آئی کارکنوں پر دھشت گردی کے مقدمات میں گواہوں اور جرح کی ایک کہانی۔
پی ٹی آئی کی قیادت کیخلاف 24نومبر احتجاج کیس 18 ھزار کے قریب ملزمان نامزد ہیں، ایک پولیس گواہ ضیا الحق نے انسدادِ دھشت گردی کی عدالت کے طاہر محمود سپرا کی عدالت میں گواہی دی اور اُس پر ملزمان… pic.twitter.com/QieDRiLUJY
— Matiullah Jan (@Matiullahjan919) September 22, 2026
گواہ نے کہا کہ میں نے ہر گرفتار ملزم شھری پر الگ الگ سے مخصوص الزامات نہیں لگائے، میرے پاس کوئی آواز ریکارڈ کرنے والا آلہ بھی نہیں تھا، کوئی جلی ہوئی گاڑی بھی عدالت میں اپنے بیان کیساتھ پیش نہیں کی، میں نے شناخت پریڈ کرنے والوں میں شامل نہیں تھا، ملزمان کے نام گرفتاریوں کے بعد مجھے بتائے گئے تھے، سوال – کیس میں جو ملزمان نامزد ہوئے اور پکڑے نہیں گئے اُنکے نام کیسے پتہ چلے؟ نامزد ملزمان جو گرفتار نہ ہو سکے انکے نام شریک ملزمان کی طرف سے پتہ چلے، یہ غلط ھیکہ ملزمان کا نام بعد میں سوچ سمجھ کر زبردستی ملزمان کی فہرست میں ڈالا گیا۔
وکیل صفائی ایڈوکیٹ الیاس صدیقی نے کہا کہ گواہ کو مختلف ملزمان سے برآمدگیوں کے بارے میں دیا گیا عدالتی بیان ریکارڈ ہی نہیں کرایا جا سکتا تھا اور خلاف قانون تھا، گواہ نے اس بات کی تردید کی، گواہ نے کہا کہ برآمد شدہ ڈنڈوں کے کوئی پارسل نہیں بنائے گئے۔
پولیس کے ایک اور گواہ نے کہا کہ وہ نہیں جانتا کہ کس ملزم سے کونسا ہتھیار برآمد ہوا یا کس ملزم نے کونسی گاڑی کو آگ لگائی، شناخت پریڈ میں حصہ لیا۔ وکیل الیاس صدیقی کے پوچھنے پر بتایا کہ جرح کے دوران ہر ملزم کے جائے موجودگی کے حوالے سے میں نے ڈمی ملزمان کی جائے موجودگی کی تصدیق پولیس ریکارڈ دیکھ کر کی۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ شناخت کے دوران ملزمان اور اُنکی ڈمیز کی کتنی قطاریں بنائی گئی تھی۔
ایک اور پولیس گواہ نعیم کے مطابق اُس کو بھی یہ معلوم نہیں کہ کس ملزم نے کونسا ہتھیار اُٹھا رکھا تھا اور اُس نے کیا کاروائی کی۔ شناخت پریڈ کے دوران اپنی یاداشت سے بتایا کہ کونسا ملزم کس جگہ پر کھڑا تھا، جج زہرا نے کہا کہ یہ نہ ہو کہ آپکے سُپر ہیومن ہونے کے باعث گوگل والے اُٹھا کر لے جائیں۔ گواہ نے کہا کہ شناخت کے دوران کتنے ملزمان کی ڈمیز کی قطاریں لگائی گئی تھی۔
ایس ایچ او اشفاق وڑائچ پر جرح کے دوران ایڈوکیٹ الیاس صدیقی نے بتایا کہ ڈاکٹر نے آٹھ زخمی پولیس افسران کے بارے میں لکھا کہ ملزمان کی فائرنگ سے گولی تمام آٹھ پولیس اہلکار کے جسم کو چھو کر گذر گئی۔ جج سپرا نے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ پولیس والے اپنے اہلکاروں کو سچ مچ کا مروا دیتے۔ عدالت نے ڈاکٹری رپورٹ تیار کرنے والے ڈاکٹر کو کل طلب کر لیا۔


